یہ اعلان آئس لینڈ کے قومی نشریاتی ادارے کی جانب سے کیا گیا، جس کے ڈائریکٹر جنرل سٹیفن ایرکسن نے کہا کہ موجودہ حالات میں یوروویژن جیسے بین الاقوامی ایونٹ سے نہ کوئی امن وابستہ ہے اور نہ خوشی۔ حالات تبدیل نہ ہونے کی وجہ سے آئس لینڈ نے مقابلے سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے۔
نشریاتی ادارے کے مطابق یورپی براڈکاسٹنگ یونین کے اندرونی اختلافات اور آئس لینڈ میں عوامی رائے نے فیصلے میں اہم کردار ادا کیا۔ مختلف آرٹسٹ تنظیموں اور عوام کے نمائندوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ملک اسرائیل کی شرکت کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرے، کیونکہ اس تنازعے نے مقابلے کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
بورڈ نے یہ فیصلہ یوروویژن 2026 کی 70 ویں سالگرہ کے ایڈیشن میں شرکت کی آخری تاریخ سے صرف چند گھنٹے پہلے منظور کیا، جس کے بعد آئس لینڈ اپنا فیصلہ کرنے والا آخری ملک قرار پایا۔
غزہ میں جاری جنگ کے باعث اسرائیل کی شرکت پر پہلے ہی تنقید میں اضافہ ہو رہا تھا۔
اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل پر 2025 کے ایونٹ میں عوامی ووٹنگ پر اثرانداز ہونے کے الزامات بھی سامنے آئے تھے۔ اگرچہ یورپی براڈکاسٹنگ یونین نے ووٹنگ سسٹم کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات متعارف کرائے، تاہم آئس لینڈ نے کہا کہ یہ تبدیلیاں اس کے خدشات کو پوری طرح دور نہیں کرتیں۔
There is neither peace nor joy surrounding this competition, Director General of Iceland s public broadcaster said, after the country became the fifth nation to withdraw from the 2026 Eurovision Song Contest over Israel s participation https://t.co/WpHGokgQxG pic.twitter.com/lvdmh2jAfF
— Reuters (@Reuters) December 11, 2025
آئس لینڈ نے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اسرائیل کے پبلک براڈکاسٹر کن کو مقابلے سے خارج کیا جائے، لیکن یورپی براڈکاسٹنگ یونین نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا اور اسرائیل کی شرکت کو نئے قواعد کے تحت برقرار رکھا۔
کن کے سی ای او گولن یوچپاز نے آئس لینڈ کے فیصلے کو ثقافتی بائیکاٹ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ قدم ایک خطرناک مثال قائم کر سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ بائیکاٹ آج اسرائیل سے شروع ہو سکتا ہے، لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ کہاں جا کر رکے گا یا کس کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کیا ہم واقعی چاہتے ہیں کہ یوروویژن کے 70 ویں سال کو اس تنازعے کے ساتھ یاد رکھا جائے؟
اسرائیل 1973 سے یوروویژن میں حصہ لے رہا ہے اور اب تک چار مرتبہ یہ مقابلہ جیت چکا ہے۔
آئس لینڈ اگرچہ کبھی فاتح نہیں رہا، لیکن 1999 اور 2009 میں دوسری پوزیشن حاصل کر چکا ہے۔
یوروویژن کے ڈائریکٹر مارٹن گرین نے کہا کہ یورپی براڈکاسٹنگ یونین ہر براڈکاسٹر کے فیصلے کا احترام کرتا ہے اور امید ہے کہ آئس لینڈ مستقبل میں دوبارہ اس مقابلے کا حصہ بنے گا۔






