قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد اسرائیل نے تقریباً روزانہ حملے کرتے ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔

غزہ کے سرکاری میڈیا آفس کی رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر سے 29 نومبر تک اسرائیل نے فضائی حملوں، توپ خانے کی گولہ باری اور براہِ راست فائرنگ کے ذریعے مجموعی طور پر 591 خلاف ورزیاں کیں۔

دفتر کے مطابق اسرائیل نے فلسطینی شہریوں پر 164 بار فائرنگ کی، 25 بار “یلو لائن” سے باہر رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا، 280 بار غزہ پر بمباری اور گولہ باری کی، جب کہ 118 مواقع پر شہری املاک کو مسمار کیا۔ 

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ گزشتہ ماہ کے دوران اسرائیلی فورسز نے 35 فلسطینیوں کو حراست میں بھی لیا۔اس کے ساتھ اسرائیل نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر غزہ جانے والی امداد کو روکنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، جب کہ گھروں، عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کی کارروائیاں بھی بدستور جاری ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق جنگ بندی معاہدے کی شرائط میں شامل تھا کہ غزہ میں جنگ کا خاتمہ کیا جائے، اسرائیل کی جانب سے تمام تر امدادی ناکہ بندی ختم کی جائے، امداد کی تقسیم میں مداخلت رک جائے، فلسطینی مزاحمتی گروہوں کے قبضے میں موجود تمام اسرائیلی اسیران کی رہائی یا مرنے کی صورت میں ان کی باقیات واپس کی جائیں، جب کہ اسرائیلی جیلوں سے تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں اور لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے اور اسرائیلی افواج “یلو لائن” سے مکمل انخلا کریں۔

یاد رہے کہ مصر، قطر اور ترکی کی ثالثی کے نتیجے میں 13 اکتوبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت تقریب میں تقریباً 30 ممالک کے نمائندوں کی موجودگی میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ تاہم اس کے باوجود اسرائیل نے فلسطینی ریاست کے قیام سے انکار کر رکھا ہے، جب کہ امریکا غزہ کے مستقبل کے حوالے سے صرف مبہم بیانات تک محدود ہے۔

الجزیرہ کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے بعد 52 دنوں میں سے 41 دن ایسے تھے جن میں اسرائیل نے غزہ پر حملے کیے، جب کہ صرف 11 دن ایسے گزرے جن میں کوئی اسرائیلی حملہ یا شہادت و زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ اس صورتِ حال کے باوجود امریکا کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اب بھی "برقرار" ہے۔

جنگ بندی کی شرائط کے مطابق غزہ میں فوری اور مکمل انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانا تھی، تاہم ورلڈ فوڈ پروگرام  کے مطابق اس وقت غزہ کو مطلوبہ خوراک کا صرف نصف حصہ پہنچ رہا ہے۔ فلسطینی امدادی اداروں کے اتحاد کا کہنا ہے کہ مجموعی امداد جنگ بندی کے تحت طے شدہ مقدار کا صرف ایک چوتھائی ہے۔10 اکتوبر سے 29 نومبر کے دوران صرف 6,102 ٹرک اپنی مطلوبہ منزلوں تک غزہ کے اندر پہنچ سکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک 70,112 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، 10 اکتوبر سے جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے 356 اموات اور 909 زخمی ہو چکے ہیں۔