اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر کی رپورٹ کے مطابق نومبر 2024 سے اکتوبر تک اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے تشدد کے 1,732 واقعات رپورٹ ہوئے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 24 فیصد زیادہ ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبادکاروں کا تشدد منظم اور حکمت عملی کے تحت جاری رہا، جس میں اسرائیلی حکام کا کردار مرکزی رہا، جو ان کارروائیوں کی ہدایت، شرکت یا معاونت کرتے رہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق آبادکاروں کے حملوں، جبری بے دخلی کے احکامات، گھروں کی مسماری اور فوجی کارروائیوں کے باعث دسیوں ہزار فلسطینی اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

ان میں تقریباً 32 ہزار افراد شامل ہیں جو جنین، طولکرم، نور شمس اور الفارعہ کی پناہ گزین کیمپوں سے بے دخل کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 36 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی بے دخلی ایک غیر معمولی سطح پر اجتماعی اخراج ہے، جو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت غیر قانونی منتقلی کے زمرے میں آتا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ مغربی کنارے میں یہ بے دخلی غزہ میں جاری بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے ساتھ مل کر ایک منظم پالیسی کا تاثر دیتی ہے، جس کا مقصد فلسطینیوں کو مستقل طور پر بے دخل کرنا ہے، جو نسلی تطہیر کے خدشات کو جنم دیتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری غزہ جنگ کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں میں شدت آئی ہے، جہاں اب تک 1,071 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

حالیہ واقعے میں اسرائیلی فورسز نے شمالی مغربی کنارے کے علاقے تمون میں ایک فلسطینی خاندان کی گاڑی پر فائرنگ کر کے چار افراد کو قتل کر دیا، جن میں دو بچے بھی شامل تھے۔

مزید پڑھیں: اسرائیلی وزیر دفاع کا ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنے کا دعویٰ

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ ڈائریکٹر ہیبا مورایف نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق یہ کارروائی ماورائے عدالت قتل کے زمرے میں آ سکتی ہے۔

ادھر اسرائیلی حکومت کی جانب سے مغربی کنارے کے مزید علاقوں پر اختیار بڑھانے کے منصوبے کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، جسے ماہرین نے عملی طور پر الحاق قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات فلسطینیوں کی مزید بے دخلی اور غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں اضافے کا باعث بنیں گے۔