ایرانی فوج کے ہنگامی کمانڈ مرکز کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ گزشتہ دو روز کے دوران اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی 84 مرتبہ خلاف ورزی کی ہے اور حملے جاری رکھتے ہوئے لبنانی شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے اعلان کے باوجود اسرائیل جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگر اسرائیلی فوج نے اپنی کارروائیاں بند نہ کیں تو اسے ایرانی مسلح افواج کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) میں لبنان میں جنگ کے خاتمے اور حزب اللہ کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے کی شق بھی شامل ہے۔ تاہم اسرائیل اور امریکا دونوں اس دعوے کی تردید کر چکے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے مذاکرات کے دوران لبنان کے معاملے کو بھی معاہدے کا حصہ بنایا تھا اور اسرائیل سے جنوبی لبنان سے انخلا کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے واپس نہیں جائے گا اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ منگل کے روز جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں کیے گئے فضائی حملوں کا مقصد اپنی فورسز کو لاحق خطرات کا خاتمہ کرنا تھا۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی والے علاقوں کی طرف راکٹ فائر کیے گئے تھے جنہیں فضائی دفاعی نظام نے ناکام بنا دیا۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ان راکٹوں کے لانچر کو نشانہ بنایا گیا جب کہ جنوبی لبنان میں ایک مشکوک گاڑی پر بھی وارننگ فائر اور بعد ازاں فضائی حملہ کیا گیا۔
لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنوبی لبنان کے علاقوں النبطیہ، میفدون اور شوکین میں اسرائیلی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے لبنان اور حزب اللہ کے حوالے سے رویے سے خوش نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکا کا اسرائیل کو ایران کیساتھ معاہدے کی تفصیلات بتانے سے انکار
فرانس میں جی-7 اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل کو یہ معاملہ پہلے ہی نمٹا لینا چاہیے تھا، لیکن جنگ مسلسل طول پکڑ رہی ہے جس کے باعث ایران کے ساتھ ہونے والے بڑے معاہدے پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ امریکا کے تعلقات بدستور غیر معمولی حد تک مضبوط ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ شام کے عبوری صدر احمد الشرح حزب اللہ کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ شام حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے، اگرچہ اسرائیلی حکام نے اس تجویز کو غیر عملی قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے باوجود لبنان میں جاری کشیدگی نے خطے میں امن کے امکانات کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جب کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ معاہدہ اسرائیل کی آئندہ فوجی کارروائیوں پر کس حد تک اثر انداز ہوگا۔






