یہ کارکن گلوبل صمود فلوٹیلا نامی قافلے کا حصہ تھے جو گزشتہ ماہ اسپین سے روانہ ہوا تھا۔ اس قافلے میں تقریباً 50 جہاز اور پانچ سو سے زائد کارکن شامل تھے جن میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شریک تھیں۔ قافلے کا مقصد اسرائیل کی 18 سالہ سمندری ناکہ بندی توڑ کر محصور فلسطینیوں تک خوراک اور امداد پہنچانا تھا۔ 

قافلے کو راستے میں اسرائیلی ڈرون حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، جن کی منظوری خود وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے دی تھی۔ اسرائیلی افواج نے جمعرات کے روز قافلے کی زیادہ تر کشتیاں بین الاقوامی پانیوں میں روک لیں تھیں، جب کہ آخری کشتی جمعے کو روکی گئی تھی۔ کئی ممالک نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق صمود فلوٹیلا کے 450 سماجی کارکن اب بھی اسرائیلی حراست میں موجود ہیں۔ ان میں سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد اور دیگر پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

ادھر اسرائیلی جارحیت کے باوجود امدادی سامان لےکر ایک اور فلوٹیلا غزہ کی طرف روانہ ہوگیا کشتیوں پر بین الاقوامی سماجی کارکن موجود ہیں۔

اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ قافلے میں شریک افراد اشتعال انگیز تھے اور بعض افراد ملک بدری کے عمل میں رکاوٹ ڈال رہے تھے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ کچھ کارکنان کا تعلق مبینہ طور پر حماس سے ہے، لیکن اس الزام کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے اور کارکنان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے قافلے کی روک تھام اور کارکنان کی گرفتاری کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ اٹلی میں جمعے کے روز غزہ سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ملک گیر ہڑتال کی گئی، جس میں دو ملین افراد نے شرکت کی۔

اسی طرح اسپین کے شہر بارسلونا میں 70 ہزار افراد نے مظاہرہ کیا، جب کہ میڈرڈ اور لزبن (پرتگال) میں بھی احتجاج متوقع ہے۔ یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ہفتے اور اتوار کو مظاہروں کا اعلان کیا گیا ہے۔

دوسری جانب حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پیش کی گئی جنگ بندی تجویز کے کچھ نکات قبول کر لیے ہیں۔ امریکی حکام نے اس پیش رفت کو مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے حماس کے ردعمل کے بعد اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کہا کہ انہیں امید ہے کہ حماس "پائیدار امن" کے لیے تیار ہے اور اسرائیل سے فوری بمباری روکنے کا مطالبہ کیا۔

 واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری موجودہ جنگ سات اکتوبر 2023 کو اُس وقت شروع ہوئی جب حماس  نے جنوبی اسرائیل پر حملہ کیا، جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق 1,200 افراد ہلاک اور 251 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

 اس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر شدید فضائی اور زمینی کارروائیاں شروع کیں، جس کے نتیجے میں اب تک 67,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں ، جب کہ اسرائیلی حکام کے مطابق اب بھی تقریباً 50 یرغمالی غزہ میں موجود ہیں، جن میں سے نصف سے کم کے زندہ ہونے کی امید ہے۔