عالمی خبررساں اداروں کے مطابق یہ لاشیں اس وقت واپس کی گئیں، جب منگل کی شب غزہ میں زیرِ حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشوں کا تبادلہ ہوا۔ تاہم، اسرائیلی حکومت نے اس کے فوراً بعد خبردار کیا کہ اگر حماس نے باقی لاشیں واپس نہ کیں تو غزہ میں امداد کی فراہمی نصف کر دی جائے گی۔

فلسطینی مرکز برائے لاپتہ و جبری طور پر غائب افراد نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تمام مہیا کردہ لاشوں کی تفصیلات، نام اور اموات کے حالات سے متعلق معلومات فراہم کرے۔

ناصر اسپتال کے کمیشن رکن سامہ حماد کے مطابق کچھ لاشوں کی گردنوں پر بندھن یا رسی کے نشانات تھے، جب کہ کئی افراد کے جسم عام شہریوں کے لباس میں ملبوس تھے۔ یہ لاشیں واضح طور پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کی نشاندہی کرتی ہیں۔


ہیلتھ کیئر ورکرز واچ کے مطابق اسرائیل اب تک 100 سے زائد فلسطینی طبی اہلکاروں کو قید رکھے ہوئے ہے، جن میں ڈاکٹر حسام ابو صفیہ بھی شامل ہیں، جو شمالی غزہ کے کمال عدوان اسپتال کے ڈائریکٹر ہیں اور گزشتہ 10 ماہ سے بغیر کسی الزام کے حراست میں ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی، تشدد اور ہلاکتوں کی اطلاعات میں اضافہ ہورہا ہے، جب کہ متعدد فلسطینی خاندان اب بھی اپنے پیاروں کے انجام سے لاعلم ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی حماس کو نئی دھمکی، ہتھیار نہ ڈالے تو طاقت سے غیر مسلح کریں گے

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ سلامتی ایتامار بن گویر نے کہا ہے کہ حماس لاشوں کے تبادلے میں کھیل کھیل رہی ہے اور مطالبہ کیا کہ اگر حماس نے تمام لاشیں فوری واپس نہ کیں تو غزہ کے لیے تمام امداد بند کر دی جائے۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ بدھ کو حماس کی جانب سے واپس کی گئی ایک لاش کسی بھی اسرائیلی یرغمالی سے مطابقت نہیں رکھتی، جب کہ معاہدے کے تحت حماس پر لازم ہے کہ وہ تمام لاپتہ اسرائیلیوں کی لاشیں واپس کرے۔