میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ خطے کے تمام مسلم ممالک کے لیے بھی باعثِ فکر ہے، جب کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ اور جارحانہ پالیسیوں پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ بلاوجہ خدشات پیدا نہیں کر رہا بلکہ زمینی حقائق اس کی تصدیق کرتے ہیں، اور ترکیہ اپنی حفاظت کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
Dışişleri Bakanı Hakan Fidan: (İsrail-Yunanistan-GKRY arasındaki askeri ittifakı) Avrupa’da Yunanistan dışında bu türden bir askeri iş birliği kurma anlaşması imzalayan hiç kimse yok. Türkiye kendisini koruyacak nitelikte. Bölgede bu askeri ittifaka endişeyle bakan ülkeler var. pic.twitter.com/UETEf38FIW
— TRT Haber Canlı (@trthabercanli) April 19, 2026
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ خطے کے کمزور ممالک اس فوجی اتحاد کو تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل نے جنوبی قبرص کے ساتھ مل کر مسلم ممالک کے خلاف فوجی اتحاد قائم کیا ہے، جب کہ ترکیہ ایسے اقدامات کے بجائے خطے میں تنازعات کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔
یاد رہے کہ اسرائیل، یونان اور قبرص نے ایک اتحاد بنایا ہے جس کا مقصد مشرقی بحیرہ روم میں گیس کے ذخائر کی حفاظت اور دفاعی تعاون شامل ہے اور ساتھ ہی جس کا مقصد ترکی کے اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔
یہ ممالک مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک ایسا مضبوط بلاک بنا رہے ہیں جو توانائی اور سیکیورٹی کے معاملات میں یورپ اور اسرائیل کو جوڑتا ہے۔







