برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق جامعہ عبرانیہ یروشلم کی جانب سے کیے گئے ایک قومی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً دو تہائی اسرائیلی شہری ایران کے ساتھ طے پانے والی عارضی جنگ بندی کے مخالف ہیں۔ یہ سروے حالیہ کشیدگی اور جنگی ماحول کے تناظر میں کیا گیا، جس نے اسرائیلی معاشرے میں موجود گہرے اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔
سروے کے مطابق عوام کی ایک بڑی تعداد اس بات پر بھی منقسم ہے کہ آیا حکومت کو اس دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر عمل کرنا چاہیے یا ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دینی چاہییں۔ اعداد و شمار کے مطابق 39 فیصد افراد نے ایران پر حملے جاری رکھنے کی حمایت کی، جبکہ 41 فیصد جنگ بندی برقرار رکھنے کے حق میں ہیں، اور تقریباً 19 فیصد نے اس معاملے پر کوئی واضح رائے دینے سے گریز کیا۔
یہ سروے ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی نے وقتی طور پر خطے میں کشیدگی کو کم کیا، تاہم اس کے باوجود زمینی حقائق میں زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ خاص طور پر اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جہاں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ 61 فیصد سے زائد اسرائیلی شہریوں کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی کو حزب اللہ کے ساتھ جاری لڑائی پر لاگو نہیں ہونا چاہیے۔ یہ نکتہ ایران کی جانب سے مذاکرات کے دوران پیش کیے گئے اہم مطالبات میں شامل تھا، جسے اسرائیلی عوام کی بڑی تعداد مسترد کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی قیادت اب اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ ایران، لبنان اور غزہ میں موجود اپنے مخالفین کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، جس کے باعث ملک ایک طویل المدتی علاقائی تنازع کیلئے خود کو تیار کر رہا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت سیکیورٹی پالیسیوں میں بھی ممکنہ تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
سیاسی سطح پر بھی اس صورتحال کے اثرات واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سروے کے نتائج کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی مقبولیت میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ جنگ کے آغاز پر جہاں 40 فیصد عوام ان کی حمایت کر رہے تھے، وہیں اب یہ شرح کم ہو کر 34 فیصد رہ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی اعتماد میں یہ کمی آئندہ انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جہاں سیکیورٹی، جنگی حکمت عملی اور خارجہ پالیسی مرکزی موضوعات ہوں گے۔
تقریباً 1312 افراد پر مشتمل اس سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اسرائیلی عوام ایک جانب سیکیورٹی خطرات کے باعث پریشان ہیں، تو دوسری جانب سیاسی قیادت کے فیصلوں پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تقسیم مستقبل میں حکومتی پالیسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی مسلسل برقرار ہے۔







