یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ تاہم مقامی سطح پر اس کے برعکس اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
بیت اُر الفوقا کے رہائشی اور مقامی کونسل کے رکن اشرف سمارة کے مطابق یہ تعمیراتی سرگرمیاں فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے محروم کرنے اور ان کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سڑکیں ہمیں ہماری زمین تک پہنچنے سے روکنے کے لیے بنائی جا رہی ہیں اور اس کا مقصد ہمیں اپنے گھروں تک محدود کر دینا ہے۔
مغربی کنارے میں بننے والی ہر نئی سڑک فلسطینیوں کے لیے مزید رکاوٹیں پیدا کرتی ہے۔ ان راستوں کا استعمال عموماً یہودی آبادکار کرتے ہیں جبکہ فلسطینیوں کو ان پر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ اس صورتحال کے باعث مقامی آبادی کے لیے قریبی شہروں، کھیتوں اور ملازمت کے مقامات تک رسائی مزید دشوار ہو جاتی ہے۔
مزید براں یہ سرگرمیاں ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیا ہے۔
تاہم اسرائیلی حکومت کی جانب سے بستیوں کی توسیع میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی برادری کی اکثریت ان بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے لیکن اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے۔
اسرائیلی تنظیم پیس ناؤ سے تعلق رکھنے والی ہگیت اوفران نے بتایا کہ یہ سڑکیں زمینی حقائق قائم کرنے اور مزید فلسطینی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے بنائی جا رہی ہیں۔
ان کے مطابق اکتوبر 2023 میں حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے میں سڑکوں کی تعمیر کے لیے سات ارب شیکل یعنی دو ارب 11 کروڑ ڈالر مختص کیے ہیں۔
یاد رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کئی مواقع پر واضح کر چکے ہیں کہ فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو گی۔
ان کے بعض وزرا نے ان منصوبوں کو ریاست فلسطین کے تصور کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی منصوبے میں ریاست کے قیام کا راستہ تجویز کیا گیا ہے لیکن اس میں شامل شرائط اتنی سخت ہیں کہ اس کا عملی امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے۔
واضع رہے کہ اس معاملے پر اسرائیلی حکومت کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اقدامات اگر جاری رہے تو دو ریاستی حل کا تصور مزید غیر حقیقی ہوتا جائے گا۔






