عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ غزہ سٹی کے ایک رہائشی علاقے میں کیا گیا، جہاں بمباری کے بعد عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ حملے کے فوری بعد امدادی ٹیمیں اور شہری ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے موقع پر پہنچ گئے، جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت عمارت میں متعدد خاندان موجود تھے، جس کے باعث جانی نقصان میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ طبی حکام کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کے باوجود غزہ میں وقفے وقفے سے اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔ فلسطینی حکام نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنائے جانے والے حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی مختلف کارروائیوں میں بڑی تعداد میں فلسطینی شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد بے گھر اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی غزہ کی صورتحال پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
ادھر اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں بھی فضائی کارروائیاں کیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 3 افرادشہید ہوئے جبکہ متعدد دیگر زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مزید پڑھیں: ترکیہ، پاکستان اور قطر کا اتحاد اسرائیل کے لیے باعثِ تشویش ہے: اسرائیلی وزیر
لبنانی ذرائع کے مطابق حملوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئی ہیں اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے،اسرائیلی فوج کی جانب سے ان کارروائیوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ غزہ اور جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں محاذوں پر کشیدگی میں کمی اور پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دے رہی ہے۔







