گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے بیڑے کو غزہ سے تقریباً 250 ناٹیکل میل، یعنی 460 کلومیٹر دور روکا جا رہا ہے۔ تنظیم نے اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی قزاقی قرار دیا ہے۔

جی ایس ایف کی ویڈیو نشریات میں مسلح کمانڈوز کو کئی کشتیوں پر چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم اس سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا کو محض اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں دو پرتشدد ترک گروہ شامل ہیں۔

اس سے قبل بیڑے میں شامل ایک کشتی پر سوار پاکستانی شہری سعد ایدھی نے ویڈیو بیان میں بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کی کشتیاں صبح سے صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کا تعاقب کر رہی تھیں اور اب انہیں روکنا شروع کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی اسرائیلی افواج نے اسی فلوٹیلا کی 22 کشتیوں کو یونانی جزیرے کریٹ کے قریب روک لیا تھا۔

اس واقعے میں کشتیوں پر سوار تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے دو افراد کے علاوہ باقی تمام کو شدید بین الاقوامی ردِعمل کے بعد اگلے ہی روز یونان کے جزیرے پر رہا کر دیا گیا تھا۔