گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے بیڑے کو غزہ سے تقریباً 250 ناٹیکل میل، یعنی 460 کلومیٹر دور روکا جا رہا ہے۔ تنظیم نے اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی قزاقی قرار دیا ہے۔
جی ایس ایف کی ویڈیو نشریات میں مسلح کمانڈوز کو کئی کشتیوں پر چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم اس سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے فلوٹیلا کو محض اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اس میں دو پرتشدد ترک گروہ شامل ہیں۔
Israeli forces have begun intercepting boats from the Gaza-bound Global Sumud Flotilla, with organisers saying soldiers boarded several vessels off Cyprus.
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) May 18, 2026
More than 50 boats left Turkiye last week in a bid to break Israel’s illegal blockade of the besieged Gaza Strip. pic.twitter.com/cI43pDcjpc
اس سے قبل بیڑے میں شامل ایک کشتی پر سوار پاکستانی شہری سعد ایدھی نے ویڈیو بیان میں بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کی کشتیاں صبح سے صمود فلوٹیلا میں شامل کشتیوں کا تعاقب کر رہی تھیں اور اب انہیں روکنا شروع کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بھی اسرائیلی افواج نے اسی فلوٹیلا کی 22 کشتیوں کو یونانی جزیرے کریٹ کے قریب روک لیا تھا۔
اس واقعے میں کشتیوں پر سوار تقریباً 175 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا، جن میں سے دو افراد کے علاوہ باقی تمام کو شدید بین الاقوامی ردِعمل کے بعد اگلے ہی روز یونان کے جزیرے پر رہا کر دیا گیا تھا۔






