قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق صرف غزہ شہر میں 37 افراد کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔ جنوبی غزہ کے علاقے المواسی میں واقع النصر اسپتال کے مطابق ایک حملے میں سات شہری شہید ہوئے، جب کہ غزہ شہر کے قریب انصار کے علاقے میں مزید دو افراد کی شہادت کی تصدیق ہوئی ہے۔

 

غزہ کے صبرا محلے میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تین بچوں سمیت چھ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ النصیرات کیمپ پر ایک اور فضائی حملے میں دو فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق مرکزی غزہ میں سول ڈیفنس اہلکاروں نے ایک تباہ شدہ مکان کے ملبے سے ایک زخمی کو زندہ نکال لیا گیا ہے، جب کہ دو افراد کی لاشیں بھی برآمد ہوئی ہیں یہ مکان النصیرات پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی بمباری سے مکمل طور پر تباہ ہوا تھا۔

 

طبی ذرائع کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بھوک سے دو افراد شہید ہوئے ہیں، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق جنگ کے دوران فاقہ کشی سے شہادتوں کی مجموعی تعداد چار سو 57 تک پہنچ چکی ہے، جن میں ایک سو 52 بچے بھی شامل ہیں۔

 

غزہ کی وزارت صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر 2023 سے اب تک جاری اسرائیلی حملوں میں 66,288 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 169,165 تک جا پہنچی ہے۔ ان میں بڑی تعداد خواتین، بچوں، معمر افراد اور نوجوانوں کی ہے۔

 

دوسری جانب انسانی حقوق کے ادارے اور اقوامِ متحدہ مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے اور انسانی امداد کو بحال کیا جائے، لیکن زمینی حقائق میں بہتری کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔