سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے جنگ کے دوران جان گنوانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت نے یہ سمجھنے میں غلطی کی کہ اعلیٰ فوجی قیادت اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنا کر ایرانی قوم کو کمزور اور ملک کو عدم استحکام کا شکار بنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کی مزاحمت، شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی قیادت اور مسلح افواج کی مکمل تیاری نے اسرائیل کے مقاصد کو ناکام بنایا اور بالآخر اسے جنگ بندی قبول کرنا پڑی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ یہ جنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ اور حملوں کے باوجود ایرانی قوم متحد رہی اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے یکجا ہو کر کھڑی ہوئی۔

یاد رہے کہ 13 جون گزشتہ سال اسرائیل نے ایران پر اچانک حملہ کیا تھا جس میں اعلیٰ فوجی رہنما، جوہری سائنس دان، سیاستدان اور شہری شہید ہوئے تھے۔

بعد ازاں امریکا بھی اس تنازع میں شامل ہو گیا اور ایران کی فردو، نطنز اور اصفہان میں واقع جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ جنگ 24 جون کو جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی تھی۔