مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ اسماعیل خطیب کی شہادت کا واقعہ اسرائیل کا ایک بزدلانہ اقدام ہے، اس واقعے پر پورا ملک سوگوار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے بھی ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اپنی حالیہ کارروائیوں میں ایرانی انٹیلی جنس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو نشانہ بنایا ہے، تاہم اس وقت تفصیلات فراہم نہیں کی گئی تھیں۔
علاوہ ازیں خطے میں کشیدگی کے دوران ایران کے بوشہر ایٹمی پاور پلانٹ کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں،پلانٹ کے قریب گرنے والے میزائل یا پروجیکٹائل کے باوجود تنصیب محفوظ رہی اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ عملے کے تمام افراد محفوظ ہیں اور پلانٹ معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: علی لاریجانی کے قاتلوں کو جلد سخت سزا بھگتنی پڑے گی؛ مجتبیٰ خامنہ ای
ایرانی ذرائع کے مطابق اس واقعے کی اطلاع عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو بھی دے دی گئی ہے تاکہ بین الاقوامی سطح پر شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔
واضع رہے کہ ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔







