خبر رساں اداروں کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی اور انقلابی گارڈ کی رضاکار فورس بسیج کے سربراہ جنرل غلام رضا سلیمانی ان حملوں میں شپہد ہو گئے۔ ایران نے بھی ان ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق علی لاریجانی کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک کی طاقتور ترین شخصیات میں شمار کیا جا رہا تھا، جبکہ غلام رضا سلیمانی داخلی سکیورٹی اور احتجاجی مظاہروں کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے تھے۔

اس کارروائی کے جواب میں ایران نے بدھ کے روز اسرائیل سمیت خلیجی عرب ممالک پر میزائل اور ڈرون حملے دوبارہ شروع کر دیے۔ اسرائیل کے وسطی علاقوں میں سائرن بجنے لگے اور تل ابیب سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ رامات گان میں کم از کم دو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب سعودی عرب، کویت اور دیگر خلیجی ممالک نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس صورت حال پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیٹو اور دیگر اتحادیوں نے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے ان کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی سکیورٹی قیادت کو کمزور کرنا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔