سوال یہ ہے کہ مغربی کنارے میں آخر ہو کیا رہا ہے، یہ تنازع کب شروع ہوا اور موجودہ کشیدگی کیوں اتنی خطرناک سمجھی جا رہی ہے؟

مغربی کنارہ کیا ہے اور اس کی اہمیت کیوں ہے؟

مغربی کنارہ دریائے اردن کے مغرب میں واقع فلسطینی علاقہ ہے، جس میں مشرقی بیت المقدس (ایسٹ یروشلم) بھی شامل ہے۔ یہ علاقہ مذہبی، تاریخی اور سیاسی اعتبار سے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔

1967 کی عرب اسرائیل جنگ (چھ روزہ جنگ) کے دوران اسرائیل نے مغربی کنارے پر قبضہ کر لیا اور تب سے یہ علاقہ اسرائیلی فوجی کنٹرول اور محدود فلسطینی خودمختاری کے امتزاج کے تحت چل رہا ہے۔

1993 کے اوسلو معاہدے کے بعد مغربی کنارے کو اے، بی اور سی علاقوں میں تقسیم کیا گیا، تاہم ایریا سی، جو تقریباً 60 فیصد رقبے پر مشتمل ہے، آج بھی مکمل طور پر اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔

غزہ جنگ کے بعد حالات کیوں بگڑے؟

اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے میں بھی اپنی فوجی کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کر دیا۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد حماس، اسلامی جہاد اور دیگر مسلح گروپوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنا اور اسرائیلی شہریوں کی حفاظت یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب فلسطینی حکام اور انسانی حقوق کی تنظیمیں الزام لگاتی ہیں کہ ان کارروائیوں میں عام شہری، خواتین اور بچے بھی متاثر ہو رہے ہیں، جب کہ ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

جنین، طولکرم اور نابلس کیوں مرکزِ توجہ بنے؟

گزشتہ دو برسوں کے دوران اسرائیلی فوج نے جنین، طولکرم، نابلس اور نور شمس کیمپ سمیت کئی علاقوں میں بڑے فوجی آپریشن کیے۔

ان کارروائیوں میں بکتر بند گاڑیاں اور بلڈوزر استعمال کیے گئے۔ متعدد عمارتیں اور سڑکیں تباہ ہوئیں۔ فلسطینی مسلح گروپوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ سیکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے جب کہ ہزاروں کو گرفتار کیا گیا۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ علاقے مسلح گروپوں کے مضبوط مراکز بن چکے ہیں، جب کہ فلسطینیوں کے مطابق ان کارروائیوں سے عام شہریوں کی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

یہودی آبادکاری تنازع کا سب سے حساس پہلو کیوں ہے؟

مغربی کنارے میں تقریباً سات لاکھ اسرائیلی آبادکار مختلف بستیوں میں رہتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں کے مطابق مقبوضہ علاقے میں ایسی آبادکاریاں غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں، تاہم اسرائیل اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا۔

حالیہ برسوں میں نئی آبادکاری کے منصوبوں، زمینوں پر قبضوں اور آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی دیہات پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی کیسے متاثر ہوئی؟

فوجی کارروائیوں کے بعد مغربی کنارے میں سیکڑوں چیک پوسٹس قائم کی گئی ہیں۔ کئی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں۔ شہروں اور دیہات کے درمیان آمدورفت محدود ہو گئی ہے۔

کاروبار، تعلیم اور صحت کی سہولیات شدید متاثر ہوئی ہیں۔ متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔ ان پابندیوں کے باعث فلسطینی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کا مؤقف کیا ہے؟

اسرائیل کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے میں فوجی کارروائیاں دہشت گردی کی روک تھام، اسرائیلی شہریوں کے تحفظ اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔

فلسطینی قیادت کا مؤقف ہے کہ مسلسل فوجی کارروائیاں، آبادکاری، زمینوں پر قبضے اور نقل و حرکت پر پابندیاں دو ریاستی حل کو مزید مشکل بنا رہی ہیں اور فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے۔

عالمی برادری کیوں تشویش میں ہے؟

اقوام متحدہ، یورپی یونین، عرب ممالک اور کئی بین الاقوامی تنظیمیں بارہا خبردار کر چکی ہیں کہ مغربی کنارے کی صورتحال مزید بگڑنے سے پورا خطہ ایک وسیع تر تنازع کی طرف جا سکتا ہے۔

عالمی ادارے شہریوں کے تحفظ، آبادکاری روکنے اور مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہے ہیں، تاہم اب تک کوئی مستقل پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

مغربی کنارہ اب صرف ایک مقامی تنازع نہیں رہا بلکہ یہ غزہ جنگ، اسرائیل کی داخلی سیاست، خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کے کردار، اور مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل سے جڑا ایک اہم محاذ بن چکا ہے۔

اگر فوجی کارروائیاں، آبادکاری اور جوابی حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو مغربی کنارہ بھی غزہ کی طرح ایک بڑے انسانی اور سکیورٹی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں تو یہی علاقہ مستقبل میں کسی ممکنہ سیاسی حل کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔

مغربی کنارے کی موجودہ صورتحال اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ فلسطین۔اسرائیل تنازع صرف غزہ تک محدود نہیں، بلکہ اس کی ایک اہم اور حساس کڑی مغربی کنارہ بھی ہے، جہاں ہر نئی پیش رفت پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی اور سکیورٹی منظرنامے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔