عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے وکلا کے ذریعے صدر کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ فوجداری ٹرائل ان کی انتظامی صلاحیت اور ملکی قیادت کو شدید متاثر کر رہا ہے، جب کہ اس کیس میں معافی اسرائیل کے لیے بہتر ثابت ہوگی۔

خط میں کہا گیا ہے  کہ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ ٹرائل مکمل ہونے کے بعد وہ بری ہو جائیں گے، مگر مقدمے کی موجودگی ملک میں تقسیم پیدا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق قومی اتفاق رائے اور استحکام کے لیے اس مقدمے کا خاتمہ ضروری ہے، کیونکہ فوجداری سماعت وزیراعظم کے انتظامی امور کی انجام دہی میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

حکمران جماعت کی جانب سے جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ میرے وکلا نے صدر کو معافی کی درخواست آج بھیج دی ہے۔ جو بھی ملک کی بہتری چاہتا ہے، میں توقع کرتا ہوں کہ وہ اس اقدام کی حمایت کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انہیں ہفتے میں تین مرتبہ عدالت میں پیش ہونا پڑتا ہے، جو ان کے بقول ’ناممکن مطالبہ‘ ہے اور کسی دوسرے شہری سے ایسا نہیں لیا جاتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ انتخابات میں بارہا کامیابی حاصل کر کے عوامی اعتماد ثابت کر چکے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر یایر لیپڈ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو اس وقت تک معافی نہیں ملنی چاہیے جب تک وہ جرم کا اعتراف، پچھتاوے کا اظہار اور فوری سیاسی ریٹائرمنٹ کا اعلان نہ کریں۔

اسرائیلی صدر کے دفتر نے نیتن یاہو کی درخواست کو ’غیر معمولی‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے ’سنگین نتائج‘ ہو سکتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ صدر متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد ذمہ داری اور دیانت داری کے ساتھ اس معاملے پر غور کریں گے۔

واضح رہے کہ نیتن یاہو جو اسرائیل کے طویل ترین عرصے تک وزیراعظم رہنے والے رہنما ہیں، اُن پر رشوت، فراڈ اور غبن سمیت متعدد الزامات ہیں، جنہیں وہ مسلسل مسترد کرتے آ رہے ہیں۔

گزشتہ پانچ برس سے جاری ٹرائل میں نہ نیتن یاہو اور نہ ہی ان کے وکلا نے جرم کا اعتراف کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں معافی عام طور پر اس وقت دی جاتی ہے جب قانونی کارروائی مکمل ہو جائے اور مجرم کو سزا ہو چکی ہو، تاہم نیتن یاہو کے وکلا کا کہنا ہے کہ صدر ’عوامی مفاد‘ کے تحت مداخلت کر سکتے ہیں اور یہ اقدام قومی اتحاد برقرار رکھنے اور مزید انتشار روکنے کے لیے ضروری ہے۔