عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کی ان رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا جن میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا گیااقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی مزاحمتی گروہوں اور ایران کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے واضح دھمکیاں دیں۔
انہوں نے نہ صرف غزہ میں اسرائیلی حملوں بلکہ لبنان میں حزب اللہ، یمن کے حوثی گروہ، ایران اور شام میں اسرائیل کی عسکری کارروائیوں کا بھی ڈھٹائی سے دفاع کرتے ہوئے ان سب کے خلاف کارروائی کو “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کا نام دیا۔
نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں کہا کہ حماس، حزب اللہ، حوثی اور ایرانی ایجنٹ جہاں بھی ہوں ان کا انجام ایک ہی ہے، غزہ میں ہمارا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ہم اس وقت تک رُکنے والے نہیں جب تک حماس کا خاتمہ نہ کر دیا جائے۔
اسرائیلی وزاعظم نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے حماس رہنما یحییٰ السنوار کو شہید کیا اور اعلان کیا کہ حماس کے پاس صرف ایک راستہ ہے، ہتھیار ڈال دیں تمام یرغمالیوں کو رہا کریں ورنہ تمہیں ختم کر دیا جائے گا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے فلسطینی مزاحمتی گروہوں اور ایران کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے واضح دھمکیاں دیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کی ان رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا جن میں غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دیا گیا تھا۔
انہوں نے نہ صرف غزہ میں اسرائیلی حملوں بلکہ لبنان میں حزب اللہ، یمن کے حوثی گروہ، ایران اور شام میں اسرائیل کی عسکری کارروائیوں کا بھی ڈھٹائی سے دفاع کرتے ہوئے ان سب کے خلاف کارروائی کو “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کا نام دیا۔
نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں کہا کہ حماس، حزب اللہ، حوثی اور ایرانی ایجنٹ جہاں بھی ہوں ان کا انجام ایک ہی ہے، غزہ میں ہمارا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ہم اس وقت تک رُکنے والے نہیں جب تک حماس کا خاتمہ نہ کر دیا جائے۔
اسرائیلی وزاعظم نے اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے حماس رہنما یحییٰ السنوار کو شہید کیا اور اعلان کیا کہ حماس کے پاس صرف ایک راستہ ہے، ہتھیار ڈال دیں تمام یرغمالیوں کو رہا کریں ورنہ تمہیں ختم کر دیا جائے گا۔
اپنی تقریر کے آخر میں نیتن یاہو نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے یورپی ممالک پر تنقید کی اور کہا کہ جو ممالک عوامی سطح پر ہماری مذمت کرتے ہیں، وہی نجی ملاقاتوں میں ہمارا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران مختلف ممالک کے نمائندوں کی جانب سے شدید احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا گیا۔ ان کی تقریر کی دوران ہال خالی رہا۔
خیال رہے کہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں گزشتہ کئی روز کے دوران درجنوں عالمی رہنماؤں نے غزہ میں جاری وحشیانہ مظالم پر اسرائیل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔عالمی رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں اسرائیل پر تنقید اور اس کی غزہ میں جاری جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہوکے خلاف مبینہ جنگی جرائم پر بین الاقوامی فوجداری عدالت کا گرفتاری وارنٹ بھی جاری کیا جا چکا ہے ۔







