بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک مختصر بیان میں نیتن یاہو کے دفتر نے تصدیق کی کہ انہوں نے امریکی صدر کی دعوت قبول کر لی ہے اور وہ اس امن کونسل کے رکن کے طور پر شامل ہوں گے، جس میں دنیا بھر کے رہنما شریک ہوں گے۔

واضح رہے کہ ابتدائی طور پر اس امن کونسل کے قیام کا مقصد غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو کی نگرانی تھا، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے باعث شدید طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

 تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ منشور سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کونسل کو وسیع اختیارات دیے جا رہے ہیں، جن کا مقصد دنیا بھر میں مسلح تنازعات کے حل میں فعال کردار ادا کرنا ہے۔

منشور کے مطابق یہ کونسل استحکام کے فروغ، قابلِ اعتماد قانونی طرزِ حکمرانی کی بحالی اور ان علاقوں میں پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی جو تنازعات سے متاثر ہیں یا جہاں تنازع کا خطرہ موجود ہے۔

اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کونسل کی صدارت صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کریں گے، جب کہ وہ امریکا کے نمائندے کے طور پر بھی ایک علیحدہ حیثیت میں خدمات انجام دیں گے۔

واضح رہے کہ اس قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اس بورڈ کی تشکیل کے لیے اسرائیل سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی وزیرِ خارجہ گڈیون سار اس معاملے کو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ اٹھائیں گے۔