صدر ٹرمپ کے خطاب کے دوران بائیں بازو کے دو اسرائیلی ارکانِ پارلیمنٹ نے فلسطین کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ ایوان میں شور شرابا ہوا اور ایک رکن کو سیکیورٹی اہلکار باہر لے گئے۔

ٹرمپ نے اس موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، سیکیورٹی حکام نے بہت مستعدی سے کام کیا۔

قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق احتجاج رکنِ پارلیمان ایمن عودہ نے کیا، جنہوں نے خطاب سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ ایوان میں موجود منافقت ناقابلِ برداشت ہے۔ نیتن یاہو کو خوشامدانہ انداز میں سراہنا ان کے غزہ میں کیے گئے انسانیت کے خلاف جرائم سےانہیں بری نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ میں صرف جنگ بندی اور امن معاہدے کے احترام میں ایوان میں موجود ہوں۔ اصل انصاف اور امن تبھی ممکن ہے جب قبضہ ختم ہو اور فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا جائے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا کہ غزہ پر معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کے ایک نئے تاریخی دور کا آغاز ہے۔ آج 20 زندہ اسرائیلی یرغمالی اور 26 لاشیں دو سال بعد اسرائیل کے حوالے کی گئیں۔ یہ اسرائیل اور دنیا کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی ہے کہ اتنے سارے ممالک امن کے شراکت دار بن کر ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی نسلیں اس لمحے کو یاد رکھیں گی جب سب کچھ بدلنا شروع ہوا۔

ٹرمپ نے عرب و اسلامی ممالک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ثابت کیا ہے کہ امن محض ایک خواب نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے جسے ہم تعمیر کر سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ آج صرف جنگ کا نہیں بلکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا بھی خاتمہ ہوا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ جلد ایک خوشحال خطہ بننے جا رہا ہے۔ آج بندوقیں خاموش ہیں اور مستقبل روشن ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے صرف آٹھ ماہ میں آٹھ جنگیں ختم کرائیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ سات اکتوبر کو ہم کبھی نہیں بھولیں گے اور نہ ہونے دیں گے۔ امریکا ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ دو سال کا تکلیف دہ عرصہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ ہم میدانِ جنگ میں حاصل کردہ فتوحات کو امن اور خوشحالی میں بدل رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایران کی جوہری تنصیبات پر مبینہ کارروائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ایران کی ایٹمی صلاحیت ختم کر دی ہے۔ ہماری ایئرفورس کے 7 بی ٹو بمبار طیاروں اور سو سے زائد لڑاکا جہازوں نے ایرانی اہداف پر 14 بم گرائے، جس سے ایران کی جوہری تنصیبات تباہ ہوگئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے لیے دوستی اور تعاون کے دروازے کھلے ہیں۔ ہم نے ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران سے پہلے روس کے ساتھ ڈیل کرنا ضروری ہے، جب کہ انہوں نے لبنان میں حزب اللہ کے ہتھیار ڈالنے کو خوش آئند قرار دیا۔

ٹرمپ نے کہا کہ لبنان میں مثبت تبدیلیاں آ رہی ہیں، حزب اللہ کا اسرائیل کی سمت اٹھا ہوا خنجر ٹوٹ چکا ہے۔ ہم لبنانی صدر کی ریاستی اسلحہ کنٹرول کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ عرب اور مسلم ممالک نے متحد ہو کر دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا عزم دہرایا۔ انہوں نے حماس پر دباؤ ڈال کر امن عمل کو آگے بڑھایا، غزہ جنگ بندی کامیابی سے حاصل ہوئی، اور برسوں سے جاری اسرائیل مخالف بیانیہ تبدیل ہوا۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں امن کے قیام کے لیے امریکا ہر ممکن تعاون کرے گا۔ میں عرب ممالک کا شکر گزار ہوں جنہوں نے تعمیرِ نو کے معاہدے کی حمایت کی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر امریکی صدر نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے پرامید ہیں۔

اگر ایران کے ساتھ امن ہو جائے تو یہ بہت شاندار ہوگا۔ اب وقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اپنی توجہ استحکام، سلامتی، وقار اور معاشی ترقی پر مرکوز کرے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریر کے دوران فلسطینیوں کا ذکر تو کیا، لیکن ان کی دہائیوں پرانی خود ارادیت اور ریاست کے قیام کی جدوجہد کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کے لیے انتخاب اس سے زیادہ واضح نہیں ہو سکتا۔ یہ ان کے لیے موقع ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے دہشت گردی اور تشدد کے راستے سے ہٹ جائیں، جو انتہائی حد تک جا چکا ہے، اور اپنے درمیان موجود نفرت انگیز قوتوں کو ختم کریں۔ میرا خیال ہے کہ یہ ہونے جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران میں نے کچھ ایسے لوگوں سے ملاقات کی ہے جو یہ سب ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

مزید کہا کہ بے پناہ جانی نقصان، تکلیف اور مشکلات کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو نیچا دکھانے کے بجائے اپنے عوام کی تعمیر پر توجہ دیں۔

دوسری جانب تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کو جاری فوجی اور سفارتی مدد کے ذریعے امریکا طویل عرصے سے اس خطے میں تشدد کو بڑھاوا دینے والا ایک مرکزی کردار رہا ہے۔

امریکی صدر نے اسرائیلی ہم منصب پر زور دیا کہ وہ بنیامین نیتن یاہو کو بدعنوانی کے الزامات سے بری کر دیں۔

ٹرمپ نے اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ سے مطالبہ کیا کہ وہ بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کرنے والے نیتن یاہو کو معافی دے دیں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم اور ان کے پارلیمانی اتحادیوں نے ٹرمپ کے ان الفاظ کا خیرمقدم کیا اور تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔

آخر میں امریکی صدر نے کہا کہ ہم ایک ایسی میراث تعمیر کرنے جا رہے ہیں جس پر اس خطے کے تمام لوگ فخر کریں گے، دوستی، تعاون اور تجارت کے نئے رشتے قائم ہوں گے۔