وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کے فروغ کے لیے امریکا کی کوششیں جاری ہیں اور حالیہ معاہدہ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے،  بعض اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، تاہم زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام فریقوں کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا ہوگا۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ اگر کوئی اتحادی ملک امریکی صدر یا امریکی پالیسیوں پر مسلسل تنقید کو اپنی بنیادی حکمتِ عملی بنا لے تو اس سے تعلقات میں بہتری کے بجائے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، امریکا کے فیصلے اپنے قومی مفادات، علاقائی استحکام اور عالمی امن کے تناظر میں کیے جاتے ہیں۔

جے ڈی وینس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے فریم ورک کے تحت جنگ بندی کے تسلسل، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور آئندہ 60 روز کے دوران جامع مذاکرات پر اتفاق کیا گیا ہے، اس پیش رفت سے نہ صرف خطے میں تناؤ کم ہوگا بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کے تحت ایران کو اپنی تمام ذمہ داریاں مکمل طور پر پوری کرنا ہوں گی، امریکا کسی بھی مرحلے پر محض وعدوں پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ ہر اقدام کی مکمل نگرانی اور تصدیق کی جائے گی۔ "اعتماد سے زیادہ اہم تصدیق ہے"، امریکی نائب صدر نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا۔

جے ڈی وینس نے بتایا کہ ابتدائی مثبت پیش رفت کے بعد بعض بحری پابندیوں میں نرمی کی گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بھی کمی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر مذاکرات کامیابی سے آگے بڑھتے ہیں تو خطے میں اقتصادی سرگرمیوں اور تجارتی روابط کو بھی فروغ ملے گا۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بعد امریکا اور اسرائیل کے درمیان بعض پالیسی معاملات پر اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔ اسرائیلی حلقوں میں امریکی مؤقف پر تشویش پائی جاتی ہے، تاہم واشنگٹن اپنی سفارتی حکمتِ عملی پر قائم ہے اور اسے خطے میں امن کے لیے ضروری قرار دے رہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران معاہدے پر میرا مؤقف مختلف، قومی مفاد میں منظوری دی: سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای

امریکی نائب صدر نے مزید انکشاف کیا کہ وہ جلد سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات میں شرکت کر سکتے ہیں۔ ان مذاکرات کا مقصد موجودہ فریم ورک کو ایک جامع اور طویل المدتی معاہدے کی شکل دینا ہوگا تاکہ مستقبل میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی سے بچا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ یہ پورا عمل امریکی انتظامیہ کے لیے ایک اہم سفارتی آزمائش ہے، تاہم اب تک ہونے والی پیش رفت حوصلہ افزا ہے اور تمام فریق مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ جے ڈی وینس نے امید ظاہر کی کہ مسلسل مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔