غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیلی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائلوں کا سراغ لگایا گیا ہے، جب کہ ایک صحافی نے تل ابیب میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی۔
بعد ازاں ریسکیو اہلکاروں کو تل ابیب کے قریب علاقے رامات گان میں ایک مقام پر امدادی کارروائیاں کرتے دیکھا گیا۔ اسرائیلی ایمرجنسی سروس نے ابتدائی طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں دی۔
دوسری جانب ایران میں پیش آنے والے واقعات کے حوالے سے تسنیم نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ جنوبی پارس گیس فیلڈ میں واقع ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر فضائی حملہ کیا گیا۔ اسی حوالے سے فارس نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ گیس فیلڈ میں آگ بھڑک اٹھی ہے اور فائر بریگیڈ و ریسکیو اداروں کے اہلکار موقع پر موجود ہیں۔
واضح رہے کہ جنوبی پارس دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ ہے، جہاں ایران اور قطر دونوں کے مفادات وابستہ ہیں۔ تسنیم کے مطابق یہ حملہ بدھ کی صبح کیا گیا۔
ادھر بی بی سی ویریفائی کی جانب سے تصدیق شدہ سوشل میڈیا فوٹیج میں بغداد میں امریکی سفارت خانے کے قریب ایک دھماکے کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ ویڈیو میں گرین زون کی سمت ایک زور دار دھماکا اور اس کے بعد آگ کا گولہ اٹھتا ہوا نظر آتا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی سفارت خانے کو ڈرون حملے کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم اس واقعے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ یاد رہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد بغداد میں امریکی سفارت خانے کو متعدد بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ نے چین کا دورہ کیوں ملتوی کیا؟ بیجنگ کا ردعمل سامنے آگیا
علاوہ ازیں، سویڈن کی سکیورٹی سروس ساپو کی سربراہ شارلٹ وون ایسن نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے، جس کے اثرات سویڈن پر بھی پڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد ایرانی حکومت کے طرزِ عمل کی پیش گوئی کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔
ساپو اس سے قبل روس اور چین کے ساتھ ایران کو بھی اپنے لیے ایک بڑا سکیورٹی خطرہ قرار دے چکی ہے۔







