آسٹریلیوی حکومت کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ طاقتور ٹیک کمپنیوں سے کنٹرول واپس لیا جائے اور بچوں کو آن لائن دنیا میں موجود خطرناک رجحانات سے محفوظ رکھا جائے۔
اس فیصلے کے تحت فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ، ریڈٹ، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ آسٹریلیا میں موجود 16 سال سے کم عمر تمام صارفین کے اکاؤنٹس فوری بند کریں، بصورتِ دیگر ان پر 33 ملین امریکی ڈالر تک جرمانہ عائد ہو سکتا ہے۔
یہ قانون مقامی وقت کے مطابق آدھی رات کے بعد نافذ ہوا، جس کے بعد لاکھوں نوجوان صبح بیدار ہو کر خود کو ان پلیٹ فارمز سے مکمل طور پر باہر پایا۔
وزیراعظم انتھونی البانی نے اس اقدام کو ملک کی بڑی سماجی اور ثقافتی تبدیلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہت ہو چکا، اب حکومت کنٹرول واپس لے رہی ہے۔
Australia began enforcing the new law restricting social media for under-16s, impacting roughly a million children who can no longer log on to platforms like TikTok, YouTube, Instagram or Facebook https://t.co/2g0oiHrywA pic.twitter.com/sibqM5imJ4
— Reuters (@Reuters) December 10, 2025
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کو ایسے شکاری الگورتھمز سے محفوظ رکھنا ضروری ہے جو انہیں دھونس، تشدد، جنسی مواد اور ذہنی صحت کو متاثر کرنے والے مواد کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
بہت سے والدین نے اس پابندی کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ کچھ والدین نے اپنے بچوں کو نقصان دہ مواد کے نتیجے میں ذہنی دباؤ اور بُلیئنگ کا سامنا کرنے کی مثالیں دیتے ہوئے حکومت کے فیصلے کی حمایت کی۔
ایک والدہ نے اپنے نوعمر بیٹے کی آن لائن بُلیئنگ کے بعد موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں طویل عرصے سے ذمہ داری سے بچتی رہی ہیں۔ پانچ بچوں کے والد نے اس پابندی کو ایک طویل التواء اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ہاتھ میں کوئی بھی نشہ آور چیز دے کر اندھا دھند خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔
آسٹریلیا کے اس فیصلے نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی ہے اور کئی ممالک اس تجربے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
دوسری جانب نوجوان اس اقدام سے خاصے پریشان ہیں، کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا آج کے دور میں اظہار اور رابطے کا اہم ذریعہ ہے۔ نائجیریا اور میکسیکو کے نوجوانوں نے بھی اس پابندی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
As Australia enforces a social media ban for under-16s, Sydney teens question its impact, while global governments watch the test case closely https://t.co/5Y3XWHn5Yn pic.twitter.com/hX6WKH6EvP
— Reuters (@Reuters) December 10, 2025
سوشل میڈیا کمپنیاں اس پابندی پر سخت اعتراض کر رہی ہیں۔ میٹا کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سخت قوانین نوجوانوں کو غیر محفوظ اور کم ریگولیٹڈ آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ایلون مسک کے پلیٹ فارم ایکس نے بھی کہا کہ یہ پابندی کمپنی کی پسند نہیں بلکہ آسٹریلوی قانون کا تقاضا ہے۔ ادھر ایسے ایپس جو پابندی کی فہرست میں شامل نہیں، جیسے لیمن ایٹ اور یوپ کے ڈاؤن لوڈز میں تیزی سے اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اعداد و شمار کی تصدیق کے لیے سوشل میڈیا کمپنیوں کو 16 سال یا اس سے زیادہ عمر ثابت کرنے کا نظام خود تیار کرنا ہوگا۔
کچھ پلیٹ فارمز تصاویر کی بنیاد پر عمر کا اندازہ لگانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کریں گے، جب کہ کچھ نوجوانوں سے سرکاری شناختی کارڈ اپ لوڈ کرنے کی درخواست کریں گے۔ حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ آغاز میں یہ نظام مکمل طور پر درست نہ ہو سکے گا اور کچھ نوجوان دراڑیں نکالنے میں کامیاب ہوں گے، تاہم پلیٹ فارمز کو بھاری جرمانوں کے خطرے کے ساتھ سختی سے قانون پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔






