منظور شدہ قانون سازی اب پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا سینیٹ کو بھیجی جائے گی۔ صدر ایمانوئل میکرون نے اس پابندی کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بچوں اور نوجوانوں کو ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم کے منفی اثرات سے بچانے کے لیے ضروری ہے۔
ووٹنگ کے بعد صدر میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں اس فیصلے کو بڑا قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے دماغ فروخت کے لیے نہیں ہیں، نہ امریکی پلیٹ فارمز کے لیے اور نہ ہی چینی نیٹ ورکس کے لیے۔
بل کے مطابق 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل نیٹ ورکس اور بڑی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں موجود سوشل نیٹ ورکنگ فیچرز پر پابندی عائد کی جائے گی۔ آن لائن انسائیکلوپیڈیاز اور تعلیمی پلیٹ فارمز کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔
قانون کے تحت سوشل میڈیا کمپنیوں کو مؤثر عمر کی تصدیق کے نظام متعارف کرانا ہوں گے تاکہ کم عمر بچوں کی رسائی روکی جا سکے۔ اس کے ساتھ جونیئر اسکولوں میں اسمارٹ فون پر موجود پابندی کو ہائی اسکولوں تک بڑھایا جائے گا۔
حکام کے مطابق یہ اقدامات نئے اکاؤنٹس کے لیے 2026 کے تعلیمی سال کے آغاز سے نافذ کیے جائیں گے۔
فرانس آسٹریلیا کے بعد دوسرا ملک ہوگا جہاں کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ حکام اور ماہرین بچوں کی ذہنی نشوونما، ذہنی صحت اور ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم پر بڑھتے خدشات کا حوالہ دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹک ٹاک، اسنیپ چیٹ اور انسٹاگرام جیسے پلیٹ فارمز نوعمر بچوں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں، جن میں سائبر بُلنگ اور پرتشدد مواد تک رسائی جیسے خطرات شامل ہیں۔
ملک میں اس قانون کی وسیع عوامی حمایت دیکھی جا رہی ہے۔ 2024 کے ایک سروے کے مطابق 73 فیصد عوام 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کے حق میں ہیں۔
بل پیش کرنے والی سینٹرسٹ رکنِ پارلیمنٹ لاورے کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے معاشرے میں ایک واضح حد مقرر کی جا رہی ہے اور یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ سوشل میڈیا بے ضرر نہیں۔ ان کے مطابق بچے کم پڑھ رہے ہیں، کم سو رہے ہیں اور ایک دوسرے سے زیادہ موازنہ کر رہے ہیں۔







