آسٹریلوی وزیرِ خارجہ پینی وونگ نے بیان میں کہا کہ آسٹریلیا نے افغانستان کے لیے ’دنیا کا پہلا خود مختار پابندیوں کا فریم ورک‘ قائم کیا ہے، جس کے تحت طالبان کے خلاف براہِ راست پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔ نئی پالیسی میں اسلحہ کی فراہمی پر پابندی اور متعلقہ خدمات کی روک تھام بھی شامل ہے۔

جِن طالبان رہنماؤں پر پابندیاں لگائی گئی ہیں، ان میں وزیرِ امر بالمعروف محمد خالد حنفی، وزیرِ اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم، وزیرِ انصاف عبدالحکیم شریع اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی شامل ہیں۔

پینی وونگ کے مطابق ان عہدیداروں نے خواتین اور بچیوں پر تعلیم، روزگار، آزادانہ نقل و حرکت اور عوامی زندگی میں حصہ لینے پر پابندیاں لگا کر ’گورننس اور قانون کی حکمرانی کو شدید نقصان پہنچایا‘ ہے۔

آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ یہ فریم ورک اقوامِ متحدہ کی جانب سے طالبان پر عائد موجودہ 140 پابندیوں کے علاوہ ہے۔ اس کے علاوہ ’انسانی ہمدردی کے تحت‘ ایک خصوصی اجازت نامہ بھی رکھا گیا ہے تاکہ افغانستان کی عوام کو امداد کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

دوسری جانب طالبان حکومت نے تاحال آسٹریلیا کے اس فیصلے پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔ یاد رہے کہ جولائی میں عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے طالبان کے سپریم لیڈر سمیت چیف جسٹس حقانی کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے، جن پر خواتین کے خلاف مبینہ جرائمِ انسانیت کے الزامات ہیں۔

طالبان کے 2021 میں دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین کے تعلیم، ملازمت، سفر اور عوامی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنی ہوئی ہیں، جب کہ لاکھوں افغان شدید غربت اور انسانی بحران سے دوچار ہیں۔

آسٹریلوی وزیرِ خارجہ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ ہم طالبان کے جبر کا شکار افغان عوام خصوصاً خواتین اور بچوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔