آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ساحلِ سمندر پر یہودیوں کی حنوکا تعطیلات کی تقریب جاری تھی۔ نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے تصدیق کی ہے کہ دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جب کہ آسٹریلین براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کم از کم ایک حملہ آور بھی شامل ہے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانی نے واقعے کو انتہائی حیران کن اور تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہنگامی ردعمل دینے والے ادارے فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے ہیں اور جانیں بچانے کے لیے کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پوری قوم کے لیے باعثِ صدمہ ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بیان میں کہا کہ وہ یہودی شہری جو ساحلِ سمندر پر حنوکا کی پہلی شمع روشن کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے، ان پر بدتمیز دہشت گردوں نے حملہ کیا۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کیا۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2023 میں غزہ میں اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد سے آسٹریلیا میں یہودی عبادت گاہوں، عمارتوں اور گاڑیوں پر متعدد سام دشمن حملے ہو چکے ہیں۔
اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار نے فائرنگ کے واقعے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس سانحے سے حیران ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ گزشتہ دو برسوں کے دوران آسٹریلیا کی گلیوں میں یہود مخالف ہنگامہ آرائی کا نتیجہ ہے، جس میں گلوبلائز دی انتفادہ جیسی اشتعال انگیز اور یہود مخالف کالیں شامل رہی ہیں، جن کے اثرات آج سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اس طرح جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا ہے تو یہ ایسا واقعہ ہے جس کا ہم میں سے کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
آسٹریلین جیوری کی ایگزیکٹو کونسل کے شریک چیف ایگزیکٹو الیکس ریوچن نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ یہ ایک ہولناک واقعہ ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے میڈیا ایڈوائزر بھی حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ساحل سمندر اور قریبی پارک میں لوگ گولیوں کی آواز سن کر بھاگ رہے ہیں، جب کہ پولیس کے سائرن بھی سنے جا سکتے ہیں۔
ایک ویڈیو میں سیاہ قمیض میں ملبوس ایک شخص کو سفید قمیض میں ملبوس ایک شخص پر بڑے ہتھیار سے فائرنگ کرتے دیکھا گیا، جس کے بعد سفید قمیض والے شخص نے حملہ آور سے اسلحہ چھین کر زمین پر پھینک دیا۔
ایک اور ویڈیو میں ایک چھوٹے پیدل چلنے والے پل پر وردی پوش پولیس اہلکاروں کو دو افراد کو زمین پر دبائے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ افسران ان میں سے ایک شخص کو زندہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
آسٹریلیا کی اپوزیشن لبرل پارٹی کی رہنما سوسن لی نے کہا کہ اس واقعے میں جانی نقصان انتہائی سنگین ہے۔
My statement on the Bondi shooting attack. pic.twitter.com/LRAbMpcUEm
— Anthony Albanese (@AlboMP) December 14, 2025
انہوں نے کہا کہ آج رات آسٹریلوی عوام گہرے سوگ میں ہیں۔ نفرت انگیز تشدد ایک مشہور آسٹریلوی کمیونٹی کے دل پر حملہ ہے، ایک ایسی جگہ جسے ہم سب جانتے اور پیار کرتے ہیں۔
پولیس نے تاحال حملہ آوروں کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم پولیس کمشنر میل لینین نے کہا ہے کہ اس امکان کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ حملے میں کوئی تیسرا حملہ آور بھی ملوث ہو سکتا ہے۔
پولیس کے مطابق ایک گاڑی سے دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے، جسے ہلاک ہونے والے حملہ آور سے جوڑا جا رہا ہے۔ بم ڈسپوزل یونٹ کی ٹیم بونڈائی کے کیمبل پیریڈ کے علاقے میں موجود ہے اور علاقے کو محفوظ بنایا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سنہ 1996 کے پورٹ آرتھر حملے کے بعد یہ واقعہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے ہلاکت خیز فائرنگ کا واقعہ ہے۔
Initial reports from the scene are that more than 50 bullets were fired at the crowd of Jewish Australians who had come to Bondi Beach for a Hanukkah event ahead of the first night of Hanukkah.
— Emily Schrader - אמילי שריידר امیلی شریدر (@emilykschrader) December 14, 2025
This is what “Globalize the Intifada” meanspic.twitter.com/HisHZPawW1
یاد رہے کہ پورٹ آرتھر میں ایک مسلح شخص نے تاریخی مقام پر فائرنگ کر کے 35 افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا تھا۔
یہ واقعہ آسٹریلیا میں ایک سنگِ میل ثابت ہوا تھا، جس کے بعد حکومت نے دنیا کے سخت ترین اسلحہ قوانین متعارف کرائے۔ ان قوانین کے تحت اسلحہ واپس خریدنے کا منصوبہ شروع کیا گیا اور مالکان کے لیے سخت جانچ پڑتال لازم قرار دی گئی، جس کے نتیجے میں ملک میں فائرنگ کے واقعات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
اس کے بعد آسٹریلیا میں چند ہی بڑے حملے ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر گھریلو تشدد کے واقعات شامل تھے، جب کہ عوامی مقامات پر اس نوعیت کے حملے شاذ و نادر ہی سامنے آئے۔






