خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق بھارتی وزیراعظم اسرائیلی ہم منصب بنیامین نیتن یاہو اور صدر آئیزک ہرزوگ سے ملاقاتیں کریں گے، جبکہ بدھ کی شام اسرائیلی پارلیمنٹ سے بھی خطاب متوقع ہے۔ مودی نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک مضبوط اور ہمہ جہت اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں اور حالیہ برسوں میں ان روابط میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

بنیامین نیتن یاہو نے اس ہفتے دورے کا اعلان کرتے ہوئے مودی کو اپنا قریبی دوست قرار دیا اور کہا کہ یہ دورہ اسرائیل کے لیے عالمی سطح پر حمایت میں اضافے کا سبب بنے گا۔ غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل کے متعدد اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے، تاہم بھارت کو ایک اہم شراکت دار تصور کیا جاتا ہے۔ ایشیا میں بھارت اسرائیل کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور بھارتی وزارت تجارت و صنعت کے مطابق مالی سال 2025 میں باہمی تجارتی حجم 3.62 ارب ڈالر رہا۔

نریندر مودی 2017 میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے بھارت کے پہلے وزیر اعظم تھے، جبکہ اگلے سال بنیامین نیتن یاہو نے بھی بھارت کا دورہ کیا تھا۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق اس بار ملاقاتوں میں اقتصادی اور دفاعی امور کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون پر بھی گفتگو ہوگی۔

اسرائیل روانگی سے قبل بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ دونوں ممالک جدت، سلامتی اور مشترکہ اسٹریٹجک وژن میں شراکت دار ہیں اور مل کر استحکام و ترقی کے خواہاں ممالک کا اتحاد مضبوط بنا رہے ہیں۔

بھارت اور اسرائیل کے قریبی تعلقات کو نئی دہلی کی خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بھارت ماضی میں فلسطینیوں کی حمایت کرتا رہا اور 1992 تک اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم نہیں کیے تھے۔ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد نریندر مودی ان ابتدائی عالمی رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے اسرائیل سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

تاہم رواں ماہ کے آغاز میں بھارت اُن 100 سے زائد ممالک میں بھی شامل تھا جنہوں نے اسرائیل کے ان اقدامات پر تنقید کی، جن کے تحت مغربی کنارے میں کنٹرول بڑھانے اور فلسطینی اتھارٹی کے محدود اختیارات کو مزید کم کرنے کی کوشش کی گئی۔