عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ یقین دہانی اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کرائی۔

اطالوی وزیر خارجہ انتونیو تاجانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ ان کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تفصیلی گفتگو ہوئی، جس میں واضح کیا گیا کہ اٹلی نے کسی بھی فوجی کارروائی میں حصہ نہیں لیا اور نہ ہی امریکا کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے لیے اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اٹلی نے امریکا کے ساتھ موجود دفاعی معاہدوں کا مکمل احترام کرتے ہوئے بھی ایران کے خلاف کسی جنگی مشن کی منظوری نہیں دی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل شمالی اوقیانوسی معاہدہ تنظیم (نیٹو) کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ایک بیان پر اٹلی میں سیاسی تنازع پیدا ہو گیا تھا۔

مارک روٹے نے اشارہ دیا تھا کہ امریکی کارروائیوں میں اٹلی کے فوجی اڈے استعمال ہوئے، جس کے بعد اطالوی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی پہلے ہی واضح کر چکی تھیں کہ اٹلی کے فضائی اڈے ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں کیے گئے۔

ان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے اطالوی وزیر دفاع گوئیڈو کروسیٹو نے بھی کہا تھا کہ اگر امریکی افواج نے اطالوی تنصیبات سے کوئی سہولت حاصل کی تو وہ صرف تکنیکی اور لاجسٹک معاونت تک محدود تھی۔

دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے حالیہ کشیدگی کے تناظر میں مختلف یورپی ممالک کے ساتھ سفارتی رابطے تیز کر دیے ہیں تاکہ خطے کی صورتحال اور امریکا و اسرائیل کی کارروائیوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔