اپنے خصوصی پیغام میں روسی صدر نے کہا کہ عیدالفطر نہ صرف خوشی اور شکرانے کا موقع ہے بلکہ یہ معاشرے میں محبت، بھائی چارے اور انسانیت کے فروغ کا ذریعہ بھی ہےاور اس بات پر زور دیا کہ ایسے مذہبی مواقع لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں اور معاشرتی ہم آہنگی کو مضبوط بناتے ہیں۔
دوسری جانب روس بھر کی مساجد میں عیدالفطر کے اجتماعات منعقد ہوئے، جہاں ہزاروں فرزندانِ اسلام نے نماز عید ادا کی۔ دارالحکومت ماسکو کی معروف ماسکو کیتھڈرل مسجد میں ہونے والے مرکزی اجتماع میں بڑی تعداد میں نمازی شریک ہوئے اور ملک و ملت کی سلامتی کے لیے دعائیں کیں۔
روسی صدر نے اپنے پیغام میں اسلامی اداروں کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے خاندانی نظام کے استحکام، نوجوان نسل کی مثبت تربیت اور معاشرتی اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، یہ ادارے ریاستی اور عوامی سطح پر تعمیری مکالمے کو فروغ دیتے ہیں اور حب الوطنی، تعلیم و تربیت اور انسانی خدمت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ روس میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی احترام کو فروغ دینا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، اور مسلمان کمیونٹی اس سلسلے میں ایک مثبت اور فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
واضع رہے کہ روسی صدر کا یہ پیغام نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوشش ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ روس میں مسلمانوں کی سماجی اور ثقافتی اہمیت کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
عیدالفطر کے موقع پر دنیا بھر میں مبارکبادوں کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف ممالک کے رہنما اپنے اپنے انداز میں مسلمانوں کے ساتھ خوشیوں میں شریک ہو رہے ہیں، جو بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی یکجہتی کا عکاس ہے۔







