تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ ایران اس وقت جوہری پروگرام پر براہِ راست مذاکرات نہیں کر رہا، البتہ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی سطح پر رابطے جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری بات چیت میں بعض نکات پر پیش رفت ہوئی ہے اور ایک ابتدائی فریم ورک بھی تشکیل پا چکا ہے، لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مکمل معاہدہ بہت قریب ہے۔
Iran and US reached an understanding on a large portion of the topics discussed, that is true — Iran s Foreign Ministry spox Esmail Baghaei
— RT (@RT_com) May 25, 2026
But to say that this means some kind of vague or strange agreement has been reached — no one can make such a claim pic.twitter.com/QymjsswPVS
ترجمان کے مطابق بعض 14 نکاتی تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے جن میں جنگ کے خاتمے، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بحری راستوں پر آزادانہ اور محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے جیسے امور شامل ہیں، اس مجوزہ فریم ورک میں امریکی بحری ناکا بندی ختم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں محفوظ ٹریفک کو یقینی بنانے کے اقدامات پر بات ہو رہی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی قسم کا ٹول وصول نہیں کرتا، تاہم خدمات کی فراہمی کے عوض فیس لینا بین الاقوامی سطح پر معمول کی بات ہے اور اسے ٹول قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ معاہدے میں لبنان سمیت خطے کے دیگر محاذوں پر جاری تنازعات کے خاتمے سے متعلق نکات بھی شامل کیے جا رہے ہیں، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔
ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر پاکستان کی جانب سے کسی وفد بھیجنے کا کوئی منصوبہ موجود نہیں، جبکہ تمام فریقین کے درمیان بات چیت ابھی ابتدائی اور غیر حتمی مرحلے میں ہے۔
تہران کے مطابق مذاکرات کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور جنگی صورتحال کو سفارتی حل کی طرف لے جانا ہے، تاہم کسی بھی حتمی نتیجے کے لیے مزید بات چیت اور وقت درکار ہوگا۔







