سوشل اکاؤنٹ ایکس  پر جاری اپنے بیان میں ایرانی صدر نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود بھی ان افراد میں شامل ہیں جو ملک کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

انہوں  نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور قوم ہر قسم کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے، ایرانی عوام متحد ہیں اور کسی بھی بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔

دوسری جانب ایران نے حالیہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں عارضی جنگ بندی کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ صرف ایسے حل کو قبول کرے گا جو تنازع کے مستقل خاتمے کی ضمانت دے۔ ایرانی حکام کے مطابق پابندیوں کا خاتمہ اور مبینہ حملوں سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی ان کے بنیادی مطالبات میں شامل ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی تجاویز پر اپنا باضابطہ ردعمل تیار کر کے پاکستان کو بھجوا دیا ہے، جبکہ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کے حوالے سے سفارتی رابطہ کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، تہران میں یہودی عبادت گاہ تباہ، کئی شہر دھماکوں سے گونج اٹھے

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر کا یہ بیان نہ صرف اندرونی سطح پر عوامی حمایت کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے بلکہ عالمی برادری کو بھی ایک واضح پیغام ہے کہ ایران کسی بھی دباؤ میں آ کر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
واضح رہے کہ  بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر آنے والے دنوں میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی متوقع ہے، تاہم موجودہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ صورتحال ابھی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔