عالمی خبررساں اداروں کے مطابق تنازع کی جڑ ایک قتل کا مقدمہ ہے جس نے برطانیہ میں شدید عوامی ردعمل اور سیاسی بحث کو جنم دیا۔
گزشتہ سال 18 سالہ ہنری نوواک کو اس وقت ہتھکڑیاں لگا دی گئی تھیں جب وہ چاقو کے وار سے شدید زخمی حالت میں زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ حملہ آور نے پولیس کو جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ نوواک نے اس پر نسل پرستانہ حملہ کیا تھا۔
عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ پولیس اہلکار زخمی نوجوان کی مدد کرنے کے بجائے اسے حراست میں لے رہے ہیں۔ ویڈیو نے برطانیہ بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور پولیس کے رویے پر سوالات کھڑے کر دیے۔
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو اپنے طرز عمل کے بارے میں جواب دینا ہوگا، تاہم انہوں نے احتجاج کے دوران ہونے والے تشدد اور ہنگامہ آرائی کی بھی مذمت کی۔
اس موقع پر اسٹارمر نے ایلون مسک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ چند دنوں سے برطانوی سیاست میں مداخلت کر رہے ہیں اور معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسک برطانیہ میں نفرت اور اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں، جب کہ یہ ہماری قومی شناخت کا حصہ نہیں ہے۔
دوسری جانب ایلون مسک نے ایکس پر متعدد پوسٹس میں دعویٰ کیا کہ برطانوی پولیس سفید فام افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔
انہوں نے مغربی معاشروں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نسل پرستی کا الزام بعض اوقات قتل اور زیادتی جیسے جرائم سے بھی زیادہ سنگین سمجھا جاتا ہے۔ برطانوی حکومت اور پولیس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
Keir Starmer, "Elon Musk has been interfering in our politics in the last few days, trying to whip up division"
— Farrukh (@implausibleblog) June 4, 2026
"That is not who we are in Britain"
"In Britain we are reasonable tolerant people" pic.twitter.com/VjCD47Yd7o
ہنری نوواک کے اہل خانہ، جنہوں نے حال ہی میں وزیراعظم اسٹارمر سے ملاقات کی، نے پولیس کے رویے کو غیر انسانی اور توہین آمیز قرار دیا، تاہم انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ان کے بیٹے کی موت کو مزید نفرت، تقسیم یا کشیدگی پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ایلون مسک اور کیئر اسٹارمر آمنے سامنے آئے ہوں۔ اس سے قبل بھی مسک نے اسٹارمر پر تنقید کرتے ہوئے انہیں جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے گروہوں کے خلاف جنسی استحصال کے مقدمات میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا تھا، جس کی اسٹارمر نے سختی سے تردید کی تھی۔
حالیہ دنوں میں مسک نے برطانیہ کی دائیں بازو کی سیاست میں بھی دلچسپی دکھائی ہے اور بعض قوم پرست جماعتوں اور شخصیات کی حمایت کی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مسک کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ برطانوی سیاست سے متعلق رہا۔
ادھر برطانیہ کے کئی سیاستدانوں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایک غیر ملکی ارب پتی کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل سیاسی مداخلت جمہوری عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ایڈ ڈیوی نے اسے "برطانوی جمہوریت میں بیرونی مداخلت کی منظم مہم" قرار دیا۔
تنازع کا ایک اور پہلو مصنوعی ذہانت سے متعلق ہے۔ لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ جیس اساٹو نے مسک کی کمپنی xAI کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ کمپنی کے چیٹ بوٹ "گروک" کے ذریعے ان کی جعلی اور نامناسب تصاویر تیار کی گئیں۔
وزیراعظم اسٹارمر نے اس قانونی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو قانون کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔
دھیان رہے کہ ایلون مسک کی برطانوی سیاست میں بڑھتی ہوئی دلچسپی نہ صرف لندن اور واشنگٹن کے تعلقات بلکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے سیاسی اثر و رسوخ سے متعلق نئی بحث کو بھی جنم دے رہی ہے۔






