غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولین لیوٹ نے کہا کہ ایرانی حکومت کے پاس امریکی وقت کے مطابق رات 8 بجے تک کا وقت ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ صرف صدر ہی جانتے ہیں کہ صورتحال کہاں کھڑی ہے اور وہ کیا اقدام کریں گے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ اقدامات کا انحصار مکمل طور پر ٹرمپ کے فیصلے پر ہے۔
🚨 JUST IN: US official CONFIRMS that Iran has until 8PM to make a deal, ONLY PRESIDENT TRUMP knows "where things stand and what he will do"
— Eric Daugherty (@EricLDaugh) April 7, 2026
Iran is no doubt scrambling behind the scenes.
They DESPERATELY want to get out of the Trump FAFO! pic.twitter.com/OQarA6CGxI
خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا کی جانب سے مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ڈیڈ لائن خطے میں ممکنہ بڑے فوجی اقدام کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے، جب کہ سفارتی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔







