غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان کارولین لیوٹ نے کہا کہ ایرانی حکومت کے پاس امریکی وقت کے مطابق رات 8 بجے تک کا وقت ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ معاہدہ کرے۔

انہوں نے کہا کہ صرف صدر ہی جانتے ہیں کہ صورتحال کہاں کھڑی ہے اور وہ کیا اقدام کریں گے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ اقدامات کا انحصار مکمل طور پر ٹرمپ کے فیصلے پر ہے۔

خیال رہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر کشیدگی عروج پر ہے اور امریکا کی جانب سے مسلسل دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ڈیڈ لائن خطے میں ممکنہ بڑے فوجی اقدام کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے، جب کہ سفارتی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔