رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال ٹرمپ انتظامیہ کے اس دعوے کے برعکس ہے کہ امریکی حملوں میں ایرانی فوجی طاقت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب واقع اپنے 33 میں سے 30 میزائل اڈوں تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے، جو اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والے امریکی جنگی جہازوں اور تیل بردار ٹینکروں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مختلف میزائل اڈوں کو نقصان پہنچنے کے باوجود ایران اب بھی موبائل لانچرز کے ذریعے میزائلوں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جب کہ بعض مقامات سے براہِ راست میزائل داغے بھی جا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف تین میزائل اڈے مکمل طور پر غیر فعال ہوئے ہیں۔
انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایران اب بھی ملک بھر میں تقریباً 70 فیصد موبائل میزائل لانچرز اور جنگ سے پہلے موجود تقریباً 70 فیصد میزائل ذخائر برقرار رکھے ہوئے ہے، جن میں بیلسٹک اور کروز میزائل شامل ہیں۔
Classified US intelligence assessments show Iran still retains substantial missile and military capabilities following weeks of US-Israeli acts of aggression, according to The New York Times.
— Press TV 🔻 (@PressTV) May 13, 2026
Follow https://t.co/B3zXG73Jym pic.twitter.com/DIr4JGgvD1
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سیٹلائٹ تصاویر اور دیگر نگرانی ذرائع کی بنیاد پر اندازہ لگایا گیا ہے کہ ایران نے ملک بھر میں تقریباً 90 فیصد زیرِ زمین میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچ تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے، جو اب بھی جزوی یا مکمل طور پر فعال ہیں۔
یہ نئی معلومات ظاہر کرتی ہیں کہ امریکی قیادت نے ایران کی میزائل صلاحیت کو پہنچنے والے نقصان کا غلط اندازہ لگایا، جب کہ تباہ شدہ تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے کی ایرانی صلاحیت کو بھی کم سمجھا گیا۔






