اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹرتھ سوشل" پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ساؤتھ پارس گیس فیلڈ ایران کا نہایت قیمتی اور اسٹریٹجک اثاثہ ہے، تاہم امریکا اپنی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے، اگر ایران کی جانب سے قطر کے خلاف کسی قسم کی عسکری کارروائی کی گئی تو اس کا جواب انتہائی سخت اور غیر معمولی ہوگا۔

ان  کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر ہونے والے حملے کے بارے میں امریکا کو پیشگی علم نہیں تھا،  اسرائیل کو بھی ایسے حساس مقامات کو نشانہ بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مستقبل میں اس نوعیت کی کارروائیاں دوبارہ نہیں ہوں گی۔

انہوں نے قطر میں موجود ایل این جی تنصیبات پر حملوں کو بلا جواز اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کے عالمی نظام کو نشانہ بنانا نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ٹرمپ نے زور دیا کہ ایسی کارروائیاں عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ؔ

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے دوبارہ قطر کو نشانہ بنایا تو امریکا کا ردعمل ایسا ہوگا جس کی شدت ماضی میں نہیں دیکھی گئی، امریکا خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:  صبر محدود ہوچکا ، سعودی عرب اور اس کے اتحادی مکمل دفاعی صلاحیت رکھتے ہیں سعودی وزیر خارجہ

انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ امریکا خطے میں امن کا خواہاں ہے، لیکن اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو اس کے اثرات طویل المدتی ہوں گے اور ایران کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

واضع رہے کہ  امریکا، ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑے تنازع کی جانب دھکیل سکتی ہے، جبکہ خلیجی ممالک خصوصاً قطر کی سلامتی بھی اس صورتحال میں اہم حیثیت اختیار کر چکی ہے۔