خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اس فیصلے کی تائید کرتا ہے، بشرطیکہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھول دے اور امریکا، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف تمام حملے بند کرے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل ان امریکی کوششوں کی بھی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران مستقبل میں جوہری، میزائل یا دہشت گردی کے حوالے سے کوئی خطرہ نہ بن سکے۔

تاہم اسرائیلی حکام نے اس امر پر زور دیا کہ حالیہ جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے، جو اس مؤقف سے مختلف ہے جو اس سے قبل پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے سامنے آیا تھا، جنہوں نے عندیہ دیا تھا کہ جنگ بندی کا دائرہ لبنان تک بھی وسیع ہو سکتا ہے۔