ایرانی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویو میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ موجودہ مذاکراتی عمل ماضی کے ادوار سے یکسر مختلف ہے کیونکہ آج ایران نہ صرف سیاسی بلکہ عسکری میدان میں حاصل کی گئی کامیابیوں کے اعتماد کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں کے دوران ایران نے مختلف چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور قومی خودمختاری کا مؤثر انداز میں دفاع کیا، جس کے باعث عالمی برادری ایران کی قوت اور مؤقف کو سنجیدگی سے دیکھنے پر مجبور ہوئی ہے۔

قالیباف کے مطابق ایران کی حالیہ عسکری کامیابیوں اور دفاعی استعداد کو نہ صرف اس کے اتحادی بلکہ مخالف قوتیں بھی تسلیم کر چکی ہیں، اور یہی صورتحال مذاکراتی میز پر ایران کے لیے ایک اہم سفارتی برتری کا سبب بنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی جنگ یا تنازع میں حاصل کی جانے والی کامیابی اس وقت تک مکمل طور پر مؤثر ثابت نہیں ہوتی جب تک اسے سیاسی، قانونی اور سفارتی معاہدوں کے ذریعے مستقل شکل نہ دی جائے۔ ایران کی کوشش ہے کہ اپنی کامیابیوں کو ایسے نتائج میں تبدیل کیا جائے جو مستقبل میں بھی قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنا سکیں۔

ایرانی اسپیکر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر میدان میں حاصل کی گئی فتوحات کو باضابطہ معاہدوں، بین الاقوامی دستاویزات اور قانونی ضمانتوں میں نہ ڈھالا جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ان کے ثمرات محدود ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت اس حوالے سے مکمل طور پر متحرک ہے اور چاہتی ہے کہ حالیہ پیش رفت ملک کے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی مفادات کے لیے دیرپا فوائد کا ذریعہ بنے۔ ان کے مطابق مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے حقوق کا تحفظ، پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا اور قومی مفادات کو مضبوط بنانا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اچھا برتاؤ کرے گا تو 300 ارب ڈالر کے فنڈ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے: ٹرمپ

محمد باقر قالیباف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران مذاکرات میں اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور بنیادی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، تاہم خطے میں استحکام اور باہمی احترام کی بنیاد پر مثبت پیش رفت کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رہیں گی۔

واخح رہے کہ قالیباف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان مختلف حساس معاملات پر سفارتی رابطے جاری ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ پیش رفت پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، تہران کی جانب سے پُراعتماد بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران موجودہ مذاکرات کو اپنی حالیہ کامیابیوں کے تناظر میں دیکھ رہا ہے اور بہتر شرائط کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔