ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان یہ مذاکرات آج بروز جمعہ عمان میں منعقد ہوں گے۔ ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایرانی وفد مذاکرات میں شرکت کے لیے مکمل تیاری اور واضح مؤقف کے ساتھ مسقط پہنچ چکا ہے۔

امریکی اور ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت پر اتفاق تو ہو گیا ہے، تاہم کئی اہم نکات پر دونوں فریقین کے مؤقف میں واضح اختلافات بدستور موجود ہیں۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے، جبکہ ایران نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ بات چیت صرف اور صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے گی۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران ان مذاکرات میں مکمل اختیار کے ساتھ شریک ہو رہا ہے اور اس کا بنیادی مقصد جوہری مسئلے پر ایک ایسا حل تلاش کرنا ہے جو منصفانہ، باہمی طور پر قابلِ قبول اور ایران کے وقار کے مطابق ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس بات کی امید رکھتا ہے کہ امریکی فریق بھی مذاکرات کے دوران سنجیدگی، حقیقت پسندی اور ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرے گا، تاکہ کسی مثبت نتیجے تک پہنچا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق عمان میں ہونے والے یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں بلکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں بھی ان کی غیر معمولی اہمیت ہے،اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس کے اثرات مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جوہری معاہدے پر ماضی میں ہونے والی بات چیت کئی بار تعطل کا شکار رہی ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ برقرار رہا۔ مسقط میں ہونے والے تازہ مذاکرات کو اس تعطل کو توڑنے کی ایک اور کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔