مفاہمتی یادداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں، جبکہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے عمل میں اہم کردار ادا کرتے ہوئے دستاویز پر دستخط کیے۔
یہ معاہدہ امریکا اور ایران کے درمیان کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی کم کرنے اور مستقبل کے سفارتی رابطوں کے لیے ایک بنیادی فریم ورک فراہم کرے گا۔ پاکستان نے اس پورے عمل میں دونوں ممالک کے درمیان رابطہ کاری، اعتماد سازی اور مذاکراتی ماحول بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں مفاہمتی یادداشت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت تنازعات کے حل کے لیے سفارتکاری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور اب توجہ اس پر مؤثر عمل درآمد پر مرکوز ہوگی۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں معاہدے کے تحت خطے میں کشیدگی کم کرنے، بحری سرگرمیوں کو معمول پر لانے اور اعتماد سازی کے اقدامات پر پیش رفت متوقع ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر لانے جبکہ امریکا کی جانب سے بعض بحری پابندیوں اور اقدامات میں نرمی پر غور کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان اور قطر کی معاونت سے 19 جون کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں ایک اہم تقریب منعقد کیے جانے کا امکان ہے، جہاں معاہدے کے آئندہ مراحل، تکنیکی معاملات اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی معاہدے کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے پاکستان سمیت دیگر ممالک کے کردار کی تعریف کی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق سفارتی راستے سے مسئلے کے حل کی کوششیں خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اب تمام توجہ معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد اور آئندہ کے سفارتی مرحلے کو آگے بڑھانے پر مرکوز ہے۔
Iranian President Masoud Pezeshkian has joined U.S. President Donald J. Trump in officially signing the Memorandum of Understanding (MoU) agreed upon between Iran and the United States, thus ending the ongoing war between the two countries in the Middle East. pic.twitter.com/xDZXZ0ggl7
— OSINTdefender (@sentdefender) June 18, 2026
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان یہ مفاہمت نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے اہم پیش رفت ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔، پاکستان کا کردار اس حوالے سے خطے میں ایک فعال سفارتی شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں توانائی کی ترسیل، بحری راستوں اور سیکیورٹی صورتحال پر خدشات پیدا ہوئے تھے، تاہم نئی مفاہمتی یادداشت کو کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔







