غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کا مقصد ایران کے جوہری توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنانا اور مختلف ایٹمی منصوبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ نہ صرف توانائی کے شعبے میں اہمیت رکھتا ہے بلکہ تہران اور ماسکو کے سیاسی و اقتصادی تعلقات کو بھی مزید مستحکم کرے گا۔
ماسکو میں منعقدہ ایک آن لائن کانفرنس کے دوران ایران اور روس کے حکام اور ماہرین نے اس تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر روس میں ایران کے سفیر کاظم جلالی نے کہا کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کی توسیع اور ہرمز منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان پُرامن جوہری تعاون کے نمایاں منصوبوں میں شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کا پہلا یونٹ پہلے ہی فعال ہے، جب کہ دوسرے اور تیسرے یونٹ پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ ان کے مطابق ان منصوبوں کی تکمیل سے ایران کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
Iran, Russia Sign $25 Billion Nuclear Cooperation Deal as Tehran Presses Ahead Amid US Talks https://t.co/TOl3ZImM8l
— Larry 🇺🇸🇮🇱 (@larryp09) June 5, 2026
کاظم جلالی نے کہا کہ 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر مشتمل ہرمز منصوبہ ایران کا سب سے بڑا جوہری توانائی منصوبہ ہے، جو ایران کے نجی شعبے اور روس کی سرکاری جوہری کمپنی روساٹوم کے اشتراک سے تیار کیا جا رہا ہے۔
ایرانی سفیر نے چھوٹے پیمانے کے ایٹمی بجلی گھروں کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور امید ظاہر کی کہ ان پر جلد عملی کام شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جدید جوہری ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ روسی گیس کی ایران کے راستے ترسیل، یوریشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط میں اضافہ، اور توانائی و ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں اشتراک بھی تہران اور ماسکو کے درمیان تیزی سے فروغ پانے والے تعاون کے اہم شعبے ہیں۔
کانفرنس کے اختتام پر کاظم جلالی نے عالمی فورمز پر روس کی سیاسی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک توانائی، جدید ٹیکنالوجی، اقتصادی ترقی اور علاقائی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔







