فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی مذاکرات کاروں نے تقریبا ہر نکتے پر اتفاق سے آمادگی کا اظہار کر دیا تھا تاہم ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔

ان کا دعویٰ تھا کہ ایران ’مذاکرات کی میز سے اٹھا نہیں‘ ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’میرا خیال ہے وہ واپس آئیں گے اور ہمیں وہ سب کچھ دیں گے جو ہم چاہتے ہیں۔‘

انٹرویو کے ایک اور حصے میں ٹرمپ نے چین کو خبردار کیا کہ اگر اس نے ایران کی فوجی مدد کی تو اس پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ موجودہ تنازع کے بعد تیل اور گیس کی قیمتیں بالآخر کم ہو جائیں گی۔

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات مجموعی طور پر مثبت رہی اور کئی نکات پر اتفاق بھی ہوا، تاہم سب سے اہم معاملہ یعنی جوہری پروگرام پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک طویل بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ملاقات اچھی رہی، زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا، لیکن سب سے اہم نکتہ یعنی جوہری معاملہ حل طلب ہی رہا۔

انہوں نے کہا کہ آزادانہ آمدورفت سے متعلق معاہدہ کسی بھی وقت طے پا سکتا تھا، تاہم ایران نے اس کی اجازت نہیں دی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ممکنہ طور پر سمندر میں بارودی سرنگیں موجود ہیں، جن کے بارے میں صرف ایران کو علم ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کی تلاشی لی جائے اور اسے روکا جائے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ جلد ہی ایرانی بارودی سرنگوں کو بھی ناکارہ بنانے کے اقدامات شروع کرے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا اسے کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا، جب کہ کسی بھی ایرانی جانب سے امریکا یا پرامن جہازوں پر حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ملاقات اچھی رہی، کئی نکات پر اتفاق ہوا مگر جوہری معاملے پر اتفاق نہیں ہو سکا، ڈونلڈٹرمپ

امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کی ناکہ بندی جلد شروع کی جائے گی۔

ایک اور بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث دنیا بھر میں بے چینی اور تجارتی خلل پیدا ہوا۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اس اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کھولنے کے اقدامات کرے۔

انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مذاکرات کار جیرڈ کشنر کی جانب سے مکمل بریفنگ دی گئی ہے۔

ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو بھی سراہا۔

ان کے مطابق تقریباً 20 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد یہ واضح ہوا کہ بنیادی مسئلہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کئی امور پر اتفاق رائے ہو گیا تھا، جو فوجی کارروائی کے تسلسل سے بہتر پیش رفت تھی، تاہم ان کے بقول یہ تمام نکات اس حقیقت کے سامنے غیر اہم ہیں کہ جوہری طاقت ایسے غیر مستحکم اور غیر متوقع عناصر کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔