اسلامی انقلابِ ایران کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت تہران کے آزادی اسکوائر میں بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران نے بارہا واضح کیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس کا مقصد ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ “ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں اور آج بھی دہراتے ہیں کہ ہم جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے، اگر کسی کو شبہ ہے تو ہم کسی بھی مناسب تصدیقی عمل کے لیے تیار ہیں۔”

صدر پزشکیان کا خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور فوجی آپشن کی دھمکیاں زیرِ بحث ہیں،ایران دباؤ اور دھمکیوں کے باوجود اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا۔

ان  کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ ممکنہ طور پر مذاکرات کی بحالی کے باوجود ایران “غیر ضروری اور حد سے بڑھے ہوئے مطالبات” قبول نہیں کرے گا۔ ان کے بقول ایران باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کا حامی ہے، تاہم کسی بھی قسم کے یکطرفہ دباؤ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ “ہمارا ایران جارحیت یا دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا، لیکن ہم خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے اور مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔”

تقریب میں شریک عوام نے ایرانی قیادت کے حق میں نعرے لگائے جبکہ مختلف شہروں میں بھی انقلاب ایران کی سالگرہ کے حوالے سے ریلیاں اور تقاریب منعقد کی گئیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی صدر کا بیان عالمی برادری، خصوصاً مغربی ممالک کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ تہران اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے شفافیت دکھانے کو تیار ہے، تاہم وہ اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔