غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ افراد کئی ہفتے قبل غیر قانونی طور پر ایران جانے کے لیے روانہ ہوئے تھے، تاہم راستے میں ان کی گاڑی خراب ہونے کے بعد وہ شدید گرمی میں پیدل سفر پر مجبور ہو گئے۔
حکام کے مطابق اس گروپ کی تلاش اس وقت شروع ہوئی جب گاڑی کا ڈرائیور شدید پیاس اور تھکن کی حالت میں نیمروز کے ایک گاؤں پہنچا اور مدد طلب کی۔ ابتدائی کارروائی کے دوران پانچ افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں، جب کہ باقی 14 افراد کی تلاش جاری تھی۔
صوبائی اسپتال کے ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز باقی 14 لاشیں صحرا میں ریت کے نیچے دبی ہوئی ملیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان عبدالمتوکل توحیدی نے بھی لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کی ہے۔
جاں بحق ہونے والوں میں سے بیشتر کا تعلق افغانستان کے مشرقی صوبے بادغیس کے ایک گاؤں سے تھا۔ مقامی رہائشی عبدالخالق نے بتایا کہ یہ نوجوان 23 روز قبل روزگار کی تلاش میں ایران جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے تھے اور اب ان کی میتیں واپس پہنچائی جا رہی ہیں۔
نیمروز افغانستان کے گرم ترین اور خشک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت درجہ حرارت تقریباً 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔ شدید گرمی، پانی کی کمی اور دشوار گزار صحرائی راستے غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے تارکینِ وطن کے لیے جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسرائیل کے دفاع کے لیے وسائل ناکافی، امریکی جنرل نے پینٹاگون کو خبردار کر دیا
افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے کہا ہے کہ حکومت انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں بھرپور انداز میں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس غیر قانونی کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ایران بہتر روزگار اور معاشی مواقع کی تلاش میں افغان شہریوں کی اہم منزل سمجھا جاتا ہے، تاہم قانونی راستوں کی محدود دستیابی کے باعث ہزاروں افراد ہر سال انسانی اسمگلروں کے ذریعے خطرناک صحرائی راستے اختیار کرتے ہیں۔
گزشتہ برس دسمبر میں بھی ایران میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران شدید سردی کے باعث کم از کم 18 افغان تارکینِ وطن جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں ایک 15 سالہ لڑکا بھی شامل تھا۔






