بدھ کو ہونے والے اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے دونوں قراردادوں کے مسودے پیش کرنے پر بحرین اور روس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے فوری حل کا خواہاں ہے۔
اجلاس کے دوران روس کے نمائندے نے خلیجی ممالک کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسودہ جانبدارانہ اور تعصب پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق اگر اسے سیاق و سباق کے بغیر پڑھا جائے تو ایسا تاثر ملتا ہے جیسے تہران نے بلاجواز پورے خطے میں اہداف پر حملے شروع کر دیے ہوں۔
خلیجی ممالک کے مسودے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ پڑوسی ممالک پر حملے بند کرے۔ اس قرارداد کو 135 ممالک کی حمایت حاصل ہوئی، جو اقوام متحدہ کی تاریخ میں کسی قرارداد کے لیے شریک معاونین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
مسودہ پیش کرتے ہوئے بحرین نے کہا کہ اس قرارداد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ خلیج کا خطہ عالمی امن اور توانائی کے استحکام میں کس قدر اہم کردار رکھتا ہے اور یہ مسئلہ محض ایک علاقائی معاملہ نہیں ہے۔
اس موقع پر امریکہ کا کہنا تھا کہ ایران کی اشتعال انگیز پالیسی اور پڑوسی ممالک کو دباؤ میں رکھنے کی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے۔
دوسری جانب روس اور چین نے اس قرارداد کے حق یا مخالفت میں ووٹ دینے سے گریز کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ مسودہ تنازع کی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کرتا ہے اور اسے متوازن انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔
اس قرارداد میں ایران پر اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ہونے والی بمباری کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا، حالانکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے ان کارروائیوں کو اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ روس نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ ممکن ہے خلیجی ممالک کی سرزمین ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہو۔
بحرین نے روس کے اس مؤقف پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خلیجی ممالک کی سرزمین کو کسی ملک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔
ادھر روس کی جانب سے پیش کردہ دوسری قرارداد میں تمام فریقین سے لڑائی بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، تاہم اسے منظور ہونے کے لیے مطلوبہ ووٹ حاصل نہ ہو سکے۔ اس قرارداد کے حق میں روس، پاکستان، چین اور صومالیہ نے ووٹ دیا جبکہ امریکہ نے مخالفت کی۔ برطانیہ، فرانس، بحرین، کولمبیا، کانگو، ڈنمارک، یونان سمیت کئی ممالک نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز کیا۔
اجلاس کے دوران ایران نے الزام عائد کیا کہ خلیجی ممالک کے مسودے کی حمایت کرنے والے ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے بجائے اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دی ہے۔
ایرانی نمائندے امیر سعید ایروانی نے روسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل اور امریکہ پر تنقید کی اور کہا کہ حملہ آوروں کو متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ایران نشانہ بنا ہے، کل کوئی اور خودمختار ملک بھی اسی صورتحال کا سامنا کر سکتا ہے۔
انہوں نے اسرائیل اور امریکہ پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملوں کے دوران 1300 سے زائد شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق سلامتی کونسل کی جانب سے اس قرارداد کی منظوری کونسل کی ساکھ کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے۔
اس دوران اسرائیلی نمائندے نے اپنی تقریر میں کہا کہ سلامتی کونسل کا پیغام واضح ہے کہ شہریوں اور شہروں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے اور ایران کو یہ کارروائیاں فوری طور پر بند کرنا ہوں گی۔
انہوں نے ایرانی نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں سچائی ضروری ہوتی ہے اور ایران نے سفارت کاری کو اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے۔
اسرائیلی نمائندے کا کہنا تھا کہ ایران ایسے بیلسٹک میزائل تیار کر رہا تھا جو مشرق وسطیٰ کے علاوہ یورپ تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے مذاکرات کے دوران اعتراف کیا تھا کہ وہ 11 ایٹمی بم تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی پرامن جوہری پروگرام کے لیے یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کرنا ضروری نہیں ہوتا اور نہ ہی ایسے پروگرام کے لیے پہاڑوں کے اندر خفیہ تنصیبات تعمیر کی جاتی ہیں۔
اسرائیلی نمائندے نے ایرانی سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے میزائلوں نے اسرائیلی شہروں، خلیجی ممالک کے شہری علاقوں، ہوائی اڈوں اور ہوٹلوں کو نشانہ بنایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی نمائندے سلامتی کونسل کو متعدد خطوط بھیج چکے ہیں جن میں اسرائیل کو دہشت گرد قرار دیا گیا ہے، مگر ایسے الزامات لگانے سے پہلے انہیں اپنا کردار بھی دیکھنا چاہیے۔
اجلاس کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ موجودہ جنگ سے ہر ملک متاثر ہو رہا ہے اور یہ تنازع شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بحرین کی قرارداد کی حمایت خلیجی ممالک کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر کی ہے، کیونکہ ان ممالک پر بلاجواز حملے کیے گئے تھے۔ ان ممالک میں بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن شامل ہیں۔
عاصم افتخار نے خلیجی ممالک پر حملوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔
پاکستان نے روس کی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں فوجی کارروائیاں روکنے، کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی طرف واپس آنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو پاکستان کے مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے امریکہ کا نام لیے بغیر کہا کہ 28 فروری کو ایران پر حملہ اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات نے عالمی امن اور استحکام کو نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان نے اس موقع پر ایران کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کی حمایت کا اعادہ کیا اور ایران کے شہر میناب میں ایک سکول پر حملے کی مذمت بھی کی جس میں ایرانی حکام کے مطابق 110 بچوں سمیت 168 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
عاصم افتخار نے اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خطے کے کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ دیگر ممالک کو جنگ میں دھکیل دے۔







