عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور عوامی مقبولیت میں کمی کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی کوششوں کے باوجود خطے میں پھیلتے بحران کو قابو میں لانا مشکل ہو رہا ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی ترسیل میں خلل ڈال رہا ہے اور میزائل و ڈرون حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ طویل جنگ سے گریز چاہتے ہیں اور نجی سطح پر اس تنازع کو 4 سے 6 ہفتوں میں محدود رکھنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ ہدف غیر یقینی ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کشیدگی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔

ایک مجوزہ 15 نکاتی امن منصوبہ، جو مبینہ طور پر پاکستان کے ذریعے تہران تک پہنچایا گیا، سفارتی حل کی کوششوں کا حصہ ہے۔ تاہم تجزیہ کار اس معاہدے کے امکانات کے حوالے سے شکوک کا اظہار کر رہے ہیں، خاص طور پر ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر اختلافات کے باعث۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے پاس محدود آپشنز موجود ہیں۔ تجزیہ کار جوناتھن پینکوف کے مطابق مطلوبہ نتائج کی واضح حکمت عملی نہ ہونے سے تنازع کے حل میں مشکلات بڑھ رہی ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ امریکی مقاصد کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

امریکا نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں بھی اضافہ کیا ہے، جس سے مزید کشیدگی کے امکان کا اشارہ ملتا ہے، حتیٰ کہ زمینی افواج کے استعمال پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس سے امریکا کی شمولیت مزید گہری ہو سکتی ہے اور جنگ طویل ہو سکتی ہے۔

ایک ممکنہ حکمت عملی کے تحت ایران کی فوجی صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے بڑے فضائی حملوں پر غور کیا جا رہا ہے، جس کے بعد امریکا اپنے مقاصد حاصل ہونے کا اعلان کر سکتا ہے۔ تاہم اگر آبنائے ہرمز بند رہتی ہے تو یہ اقدام ناکافی ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ عالمی تیل کی فراہمی کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔

داخلی سطح پر بھی ٹرمپ کو دباؤ کا سامنا ہے۔ عوامی جائزوں کے مطابق جنگ کی حمایت میں کمی آ رہی ہے اور ان کی مقبولیت تقریباً 36 فیصد تک گر چکی ہے۔ آئندہ انتخابات کے پیش نظر ریپبلکن اراکین میں بھی تشویش پائی جاتی ہے، جبکہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے ووٹرز کو متاثر کیا ہے۔

ایران کی جانب سے مسلسل مزاحمت نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تہران طویل دباؤ برداشت کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے اور اہم بحری راستوں پر اپنے اثر و رسوخ کو بطور دباؤ استعمال کر رہا ہے۔

سفارتی کوششوں کو مزید چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ ایرانی قیادت ماضی کے تجربات کے باعث محتاط دکھائی دیتی ہے، جبکہ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ امریکا کی کسی بھی نرمی سے اس کی عسکری حکمت عملی متاثر ہو سکتی ہے۔

خطے کے اتحادی ممالک نے بھی امریکی زمینی افواج کی تعیناتی کے خلاف خبردار کیا ہے، کیونکہ اس سے وسیع تر عدم استحکام اور اہم تنصیبات پر جوابی حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

جنگ کے اس مرحلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کے متضاد بیانات—کبھی سفارتکاری پر زور اور کبھی سخت اقدامات کی دھمکی—نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی مخالفین کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش ہو سکتی ہے، تاہم اس سے خطے میں عدم استحکام طول پکڑ سکتا ہے۔