درآمد کنندگان نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوگئی تو پاکستان میں ادویات اور ویکسینز کی شدید قلت پیدا ہوسکتی ہے، جس کے نتیجے میں دواؤں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتیں بھی غیر سرکاری طور پر بڑھنا شروع ہوگئی ہیں، جس سے شہریوں پر مزید معاشی دباؤ پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آزادی کے دہائیوں بعد بھی پاکستان ادویات کے خام مال کی مقامی پیداوار شروع نہیں کرسکا۔ خلیجی ممالک میں کشیدگی کے باعث دبئی کے راستے آنے والے خام مال کی ترسیل بھی مشکلات کا شکار ہوگئی ہے۔ اس وقت پاکستان میں دواسازی کے خام مال کا ذخیرہ تقریباً ڈیڑھ سے دو ماہ کے لیے کافی بتایا جا رہا ہے۔
پاکستان ہول سیل کیمسٹس کونسل کے صدر محمد عاطف حنیف بلوچ کے مطابق گزشتہ 2 برسوں کے دوران زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں مسلسل غیر سرکاری اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ جاری رہی تو کینسر، ذیابیطس، انسولین اور دل کے امراض کی ادویات سمیت تقریباً تمام دواؤں کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جبکہ بچوں کے فارمولا دودھ کی قلت کا بھی خطرہ ہے کیونکہ یہ زیادہ تر درآمد کیا جاتا ہے۔
پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بدھانی کے مطابق اس وقت دواسازی کے خام مال کا تقریباً 55 سے 60 فیصد بھارت جبکہ 40 سے 45 فیصد چین سے درآمد کیا جاتا ہے، اور جنگ کے باعث سپلائی متاثر ہونے کی صورت میں قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔







