امریکی سینیٹ میں ہونے والی ووٹنگ کے دوران قرارداد کے حق میں 49 جبکہ مخالفت میں 50 ووٹ ڈالے گئے، جس کے باعث قرارداد منظور نہ ہو سکی۔ اس اہم ووٹنگ نے واشنگٹن میں ایران پالیسی اور ممکنہ عسکری کارروائی کے حوالے سے بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کو واضح کر دیا۔

قرارداد ڈیموکریٹ سینیٹر جیف مرکلے کی جانب سے پیش کی گئی تھی، جس کا مقصد صدر کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے متعلق اختیارات کو محدود کرنا تھا۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر کسی بھی بڑے عسکری اقدام کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

دلچسپ بات یہ رہی کہ صدر ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن پارٹی کے تین اراکین نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیتے ہوئے جنگی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا، جسے سیاسی حلقے اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹ میں قرارداد کی ایک ووٹ سے ناکامی نے اس بات کو ظاہر کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی پالیسی کے حوالے سے نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکومتی جماعت کے اندر بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس کی جانب سے ایران کے معاملے پر مسلسل ووٹنگ کرانے کی حکمت عملی کی قیادت کرنے والے سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب امریکی سینیٹ صدر سے واضح طور پر کہے گی کہ اس جنگ کو روک دیا جائے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر کا دورہ چین، ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی وفود کی سطح پر ملاقات

انہوں نے کہا کہ امریکا کو مشرق وسطیٰ میں ایک نئی جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنا ہوگا کیونکہ کسی بھی بڑے عسکری تنازع کے عالمی سطح پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ حالیہ ووٹنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر امریکی قانون سازوں کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں، اگر خطے میں کشیدگی مزید بڑھی تو کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان اختیارات کی جنگ بھی شدت اختیار کر سکتی ہے۔

امریکا میں عوامی سطح پر بھی ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں جبکہ کئی حلقے حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔

یاد  رہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد واشنگٹن میں سیاسی اور دفاعی سطح پر مسلسل مشاورت جاری ہے۔