میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران میں ممکنہ جنگ کو آسان بتا کر ٹرمپ کو اس میں شامل کروانے پر جی ڈی وینس نے نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

جے ڈی وینس نے الزام لگایا کہ نیتن یاہو نے ایران میں رجیم تبدیلی کے امکانات پر حد سے زیادہ خوش فہمی دکھائی اور امریکی نائب صدر نے کہا کہ ٹرمپ کو جو خواب دکھائے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کو یقین دلایا تھا کہ ایران میں جنگ اور رجیم چینج آسان ہوگی، تاہم جے ڈی وینس اسرائیلی وزیراعظم کے دعوؤں کی حقیقت سے بخوبی واقف تھے۔

برطانوی میڈیا نے بتایا کہ اس ٹیلی فون کال کے ایک دن بعد اسرائیلی میڈیا نے گفتگو کے بارے میں غلط خبر شائع کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وینس نے فلسطینیوں پر اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد پر نیتن یاہو کو جھاڑ پلائی۔

وائٹ ہاؤس نے شک ظاہر کیا کہ اسرائیلی میڈیا نے جے ڈی وینس کو بدنام کرنے کے لیے یہ کہانی گھڑی۔

رپورٹس کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود ایرانی رجیم کی اقتدار پر گرفت مزید مضبوط ہوئی اور جے ڈی وینس ایران جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں۔