جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر فیس عائد کرتا ہے تو یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی اور دنیا کو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اس حوالے سے عالمی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے اور دیگر ممالک خصوصاً جی سیون کے ارکان کو بھی اس میں کردار ادا کرنا چاہیے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا تھا، جو دنیا کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ تاہم حالیہ جنگی صورتحال کے باعث اس راستے پر ٹینکرز کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
Absolute panic in Washington. Marco Rubio whines that Iran is planning to permanently control the Strait of Hormuz and charge a toll. He admits the US is powerless to stop it alone and begs the rest of the world to step in. Iran has completely outsmarted the American empire. pic.twitter.com/23VHAxWg0Y
— Furkan Gözükara (@FurkanGozukara) March 27, 2026
رپورٹس کے مطابق ایران ایک ایسا نظام متعارف کروانے پر غور کر رہا ہے جس کے تحت گزرنے والے جہازوں کو اسلامی انقلابی گارڈ کور سے اجازت لینا ہوگی اور فیس بھی ادا کرنا پڑے گی۔
دوسری جانب نیٹو کے بعض اتحادیوں نے ایران کے خلاف براہ راست کارروائی میں محدود کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں پر تنقید بھی کی ہے۔
جی سیون ممالک نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے فوری خاتمے اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور بلا معاوضہ آمدورفت کی بحالی پر زور دیا، تاہم کسی عملی اقدام یا تعاون کا اعلان نہیں کیا گیا۔
مارکو روبیو نے اس موقع پر مغربی کنارہ میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری تنازع کے دوران مغربی کنارے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے، جب کہ حالیہ دنوں میں آبادکاروں کی جانب سے گھروں کو نذر آتش کرنے اور شہریوں پر حملوں کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔







