جمعے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ایران اس اہم آبی گزرگاہ پر فیس عائد کرتا ہے تو یہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی اور دنیا کو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اس حوالے سے عالمی کوششوں کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے اور دیگر ممالک خصوصاً جی سیون کے ارکان کو بھی اس میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل گزرتا تھا، جو دنیا کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ تاہم حالیہ جنگی صورتحال کے باعث اس راستے پر ٹینکرز کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران ایک ایسا نظام متعارف کروانے پر غور کر رہا ہے جس کے تحت گزرنے والے جہازوں کو اسلامی انقلابی گارڈ کور سے اجازت لینا ہوگی اور فیس بھی ادا کرنا پڑے گی۔

دوسری جانب نیٹو کے بعض اتحادیوں نے ایران کے خلاف براہ راست کارروائی میں محدود کردار ادا کرنے کا عندیہ دیا ہے، جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں پر تنقید بھی کی ہے۔

جی سیون ممالک نے اجلاس کے بعد جاری بیان میں شہریوں اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے فوری خاتمے اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ اور بلا معاوضہ آمدورفت کی بحالی پر زور دیا، تاہم کسی عملی اقدام یا تعاون کا اعلان نہیں کیا گیا۔

مارکو روبیو نے اس موقع پر مغربی کنارہ میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری تنازع کے دوران مغربی کنارے میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے، جب کہ حالیہ دنوں میں آبادکاروں کی جانب سے گھروں کو نذر آتش کرنے اور شہریوں پر حملوں کی رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں۔