ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے آج پیر کے روز ایک پریس بریفنگ میں کہا کہ ان کا ملک کسی بھی عسکری حملے کا ایسا جواب دے گا جس پر حملہ آور کو پچھتانا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت بھی ایک ہمہ گیر ہائبرڈ جنگ کا سامنا کر رہا ہے، جو گزشتہ جون میں اسرائیل اور امریکا کی جانب سے کی جانے والی عسکری کارروائیوں کا تسلسل ہے۔
بقائی کے مطابق اسرائیلی اور امریکی دھمکیاں گزشتہ کئی ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر دی جا رہی ہیں، تاہم خطے کے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ عدم استحکام ایک متعدی عمل ہے اور ان خلفشاروں کے اہداف صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ تہران آج پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں جامع اور فیصلہ کن جواب دے گا، جو دشمن کے لیے باعثِ ندامت ہوگا۔
وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف کے درمیان کسی ممکنہ رابطے کے حوالے سے بقائی نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس خبر میں کوئی صداقت نہیں۔
یورپی پارلیمان کی جانب سے پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے پر انہوں نے اسے مضحکہ خیز قرار دیا اور کہا کہ اس کے کئی منفی اثرات ہوں گے، جن کا ایران مناسب جواب دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: عبوری صدر وینزویلا، برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے، امریکا کے مزید احکامات نہیں مان سکتے
عراق میں حکمرانی سے متعلق صورتحال پر بات کرتے ہوئے بقائی نے واضح کیا کہ وہاں ہونے والی پیش رفت مکمل طور پر عراقی عوام کا اندرونی معاملہ ہے۔ ان کا یہ بیان نئی حکومت کی تشکیل کی جانب اشارہ تھا۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی جنگی طیارے اور فوجی سازوسامان مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکے ہیں، جہاں چند روزہ تیاری کی مشقیں کی جائیں گی، جیسا کہ امریکی مرکزی کمان پہلے ہی واضح کر چکی ہے۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف عسکری آپشن کی بارہا دھمکی دی تھی، تاہم بعد ازاں انہوں نے اپنے لہجے میں نرمی پیدا کی۔ ان کے مطابق یہ قدم ایرانی حکام کی جانب سے مظاہرین کے خلاف سزائے موت کے نفاذ کو روکنے کے بعد اٹھایا گیا۔






